پاکستان میں موبائل فون صارفین کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی شکایات اس وقت سوشل میڈیا پر عوامی بحث کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔
صارفین نہ صرف مہنگے ہوتے موبائل پیکیجز بلکہ مبینہ طور پر غیر واضح چارجز اور بار بار قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر سامنے آنے والی شکایات میں صارفین کی بڑی تعداد خود کو ٹیلی کام کمپنیوں کی قیمتوں اور پالیسیوں کے سامنے بے بس محسوس کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
-
سب سے زیادہ بیٹری لائف والا موبائل فون کون سا ہے؟Node ID: 900363
ایک موبائل ریٹیلر صابر علی نے ایکس پر لکھا کہ موبائل فون پیکیجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام صارف کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہر ہفتے نئی قیمت آ جاتی ہے، میں خود ریٹیلر ہوں مگر سمجھ نہیں آتا یہ سلسلہ کہاں جا کر رُکے گا۔‘
اسی نوعیت کی شکایت منیر احمد کی جانب سے بھی سامنے آئی، جنہوں نے لکھا کہ ’صارفین موبائل بیلنس لوڈ تو کرتے ہیں مگر یہ واضح نہیں ہوتا کہ رقم کس مد میں خرچ ہو جاتی ہے۔‘
ان کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں اچانک ایسے پیکیجز نافذ کر دیتی ہیں جن کے بارے میں صارفین کو پیشگی معلومات نہیں ہوتیں۔
صارفین کی ان آراء اور شکایات کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ادارہ موبائل ٹیرف، سروس کے معیار اور غیر مجاز کٹوتیوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے خدشات سے آگاہ ہے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک ہے۔‘
ریگولیٹر کے مطابق موبائل ٹیرف ریگولیشنز 2025 نافذ کیے جا چکے ہیں جن کے تحت نمایاں مارکیٹ پاور رکھنے والے آپریٹرز کسی بھی نئے پیکیج یا نرخ میں تبدیلی سے قبل پیشگی منظوری لینے کے پابند ہیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ٹیرف صارفین کے مفاد کے خلاف پایا گیا تو ادارہ مداخلت کا اختیار رکھتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی آراء یہ ظاہر کرتی ہیں کہ صارفین کی بڑی تعداد ریگولیٹری اقدامات کے عملی نتائج دیکھنے کی منتظر ہے۔
ایک صارف محمد بلال نے اپنے پیغام میں ریگولیٹری نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’محض وضاحتیں کافی نہیں بلکہ عملی کارروائی ضروری ہے۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’شکایات تو مسلسل سامنے آ رہی ہیں مگر ان پر واضح ایکشن دکھائی نہیں دیتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’شہریوں کو وضاحتیں نہیں بلکہ نتائج چاہییں، ورنہ صرف نام کی ریگولیشنز کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
محمد عمر عباسی نے الزام عائد کیا کہ ’موبائل پیکیجز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق جو پیکیج ایک سال پہلے تقریباً دو ہزار روپے میں دستیاب تھا، وہ اب پانچ ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں تو اس کا احتساب کون کرے گا؟
ٹیلی کام ماہرین کے مطابق حالیہ عوامی ردِعمل دراصل دو بڑے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، قیمتوں میں اضافہ اور بلنگ کا غیر واضح نظام۔ ان کے مطابق چھوٹی مگر مسلسل کٹوتیاں صارفین میں عدم اعتماد پیدا کرتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب موبائل فون تعلیم، آن لائن روزگار، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور کاروبار کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔
پی ٹی اے نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں موبائل ڈیٹا کی قیمتیں خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم ہیں اور اوسط فی صارف آمدن بھی نسبتاً محدود ہے، تاہم صارفین کی شکایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف قیمت کا نہیں بلکہ فراہم کی جانے والی سروس کے معیار اور شفافیت کا بھی ہے۔

ادارے کے مطابق مارچ 2026 میں متوقع سپیکٹرم نیلامی کے بعد نیٹ ورک کی کارکردگی اور ڈیٹا سپیڈ میں بہتری کی توقع ہے، جس سے صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔ اس کے ساتھ ہی موبائل آپریٹرز کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ویلیو ایڈڈ سروس کو فعال کرنے سے قبل صارف کی واضح رضامندی حاصل کی جائے۔
تاہم سوشل میڈیا پر جاری بحث سے یہ تأثر ملتا ہے کہ صارفین اب پالیسی بیانات سے زیادہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ متعدد پوسٹس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ ہر کٹوتی سے قبل لازمی اطلاع دی جائے، خودکار سبسکرپشنز کو محدود کیا جائے اور قیمتوں میں اضافے کا واضح جواز فراہم کیا جائے۔
اس معاملے پر موقف جاننے کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا تاکہ صارفین کی شکایات، پیکیجز کی قیمتوں میں اضافے اور مبینہ غیر مجاز کٹوتیوں سے متعلق ان کا موقف حاصل کیا جا سکے، تاہم خبر شائع ہونے تک کسی بھی کمپنی کی جانب سے باضابطہ ردِعمل موصول نہیں ہو سکا۔












