Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شانگلہ میں کچے گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جان سے چلے گئے، ایک بچی زخمی

خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک کچے گھر کی چھت گرنے سے 6 بچے جان سے چلے گئے جبکہ ایک بچی زخمی ہو گئی۔ 
یہ افسوسناک واقعہ تحصیل الپوری کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا۔
ریسکیو 1122 شانگلہ کے مطابق رات قریباً 2 بج کر 15 منٹ پر ایک گھر کے کمرے کی چھت اچانک گر گئی جس کے نتیجے میں سات بچے ملبے تلے دب گئے۔ 
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارکنوں نے ملبے تلے دبے تمام بچوں کو نکال لیا، تاہم ان میں سے چھ بچے جانبر نہ ہو سکے۔ 
ایک بچی کو زخمی حالت میں نکال کر فوری طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
مرنے ہونے والوں میں 15 سال کی ناظرہ بی بی دختر جہان بشر، 14 سالہ سمیرا بی بی دختر امیر داد اور پانچ سال کے رضوان ولد فضل ودود شامل ہیں۔
آٹھ سال کی نایاب دُختر محمد حسن، پانچ سال کی حیا نور دُختر داؤد اور 13 سالہ عمیرہ دُختر فضل ودود بھی اس حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
زخمی ہونے والی بچی کی شناخت 11 سالہ مروہ دُختر جہان بشر کے نام سے ہوئی ہے۔ ریسکیو 1122 شانگلہ کے ترجمان رسول خان شریف کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آپریشن مکمل کیا۔ 
واقعے کے عینی شاہد اور مرنے والی ایک بچی کے بھائی اکرام اللہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ متاثرہ خاندان کا گھر ان کے گھر کے بالکل قریب واقع ہے۔ 
ان کے مطابق ’یہ کچا مکان دو کمروں پر مشتمل تھا۔ رات کے وقت اہل خانہ سو رہے تھے کہ اچانک ایک کمرے کی چھت گر گئی اور اس میں موجود تمام افراد ملبے تلے دب گئے۔‘
’جب میں جائے وقوعہ پر پہنچا تو ملبے کے نیچے سے ایک بچی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ہم نے سب سے پہلے اس بچی کو نکالا جس کی آواز آرہی تھی اور فوری طور پر اسے ہسپتال منتقل کیا۔‘
اکرام اللہ کہتے ہیں کہ ’بعد ازاں دیگر بچوں کو نکالا گیا لیکن ان کی حالت تشویشناک تھی۔ گھر کے دوسرے کمرے میں بھی 11 افراد موجود تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’متاثرہ کمرہ گذشتہ بارشوں کے بعد مزید کمزور ہو گیا تھا۔ علاقے میں اس نوعیت کے کچے مکانات عام ہیں اور اکثر ضرورت کے مطابق ان کی جُزوی مُرمت ہی کی جاتی ہے۔‘
ریسکیو 1122 شانگلہ کے ترجمان رسول خان شریف کے مطابق رواں سال ضلع میں گھر یا کمرے کے منہدم ہونے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ 
’اس سے قبل بھی اسی نوعیت کا ایک حادثہ پیش آیا تھا، تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔2025 میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔‘
مقامی سماجی کارکن فضل سبحان افغانی کا کہنا ہے کہ ’ضلع شانگلہ کے متعدد علاقے جغرافیائی طور پر سلائیڈنگ لینڈ پر واقع ہیں جہاں زمین کی ساخت نرم اور نمی والی ہے۔‘
’دیہی علاقوں میں بیشتر مکانات روایتی انداز میں بغیر انجینیئرنگ نقشوں کے تعمیر کیے جاتے ہیں جس کے باعث وہ موسمی اثرات اور زمینی تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ثابت ہوتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مالی وسائل کی کمی کے باعث بیشتر خاندان گھروں کی تعمیر میں مقامی لکڑی اور روایتی تعمیراتی مواد استعمال کرتے ہیں جبکہ جدید اور نسبتاً محفوظ تعمیراتی مواد تک ان کی رسائی محدود ہوتی ہے۔‘
سماجی کارکن فضل سبحان افغانی کے مطابق ’ضلع کی بعض سرکاری عمارتیں بھی زمینی سرکاؤ اور تعمیراتی کمزوریوں کے اثرات سے متاثر ہوئی ہیں۔‘
اس واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے۔ مرنے والے دو بچوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے جبکہ مکان کا ملبہ اس وقت بھی اُسی جگہ پڑا ہوا ہے۔‘

شیئر: