اگر آپ کو کسی چلتی گاڑی میں متلی یا سر چکرانے کی شکایت ہوتی ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں لیکن الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس قدیم مسئلے کو ایک نئے انداز میں اجاگر کیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق تازہ سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ ان گاڑیوں کی جدید ٹیکنالوجی بعض مسافروں کے لیے ’موشن سِکنس‘ یعنی سفری بیماری کا باعث بن رہی ہے۔
دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کو ان کے خاموش انجن اور ماحول دوست خصوصیات کی وجہ سے سراہا جا رہا ہے تاہم انسانی جسم اور حواسِ خمسہ ان گاڑیوں کی منفرد رفتار اور حرکت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں کچھ وقت لے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
بغیر ڈرائیور رُکاوٹیں عبور کرنے والی بی وائی ڈی کی سُپرکارNode ID: 884214
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ہمارا دماغ آنکھوں، کانوں اور جسم سے ملنے والے پیغامات میں تضاد محسوس کرتا ہے تو وہ ’موشن سکنس‘ پیدا کرتا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے معاملے میں یہ تضاد روایتی پیٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت سے ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔
حواس کا ٹکراؤ اور برقی گاڑیوں کا جادو
الیکٹرک گاڑیاں اپنے کام کرنے کے انداز میں روایتی گاڑیوں سے بالکل مختلف ہیں۔ جہاں ایک پیٹرول انجن شور پیدا کرتا ہے اور اس کی تھراہٹ مسافر کو گاڑی کی حرکت کا احساس دلاتی رہتی ہے، وہیں الیکٹرک گاڑیاں بالکل خاموش ہوتی ہیں۔
اس خاموشی کے ساتھ ساتھ ان کی فوری رفتار پکڑنے کی صلاحیت یا ’انسٹنٹ ٹارک‘ انسانی حواس کو الجھا دیتا ہے۔ جب گاڑی اچانک تیز ہوتی ہے تو جسم حرکت محسوس کرتا ہے لیکن انجن کے شور یا وائبریشن کی عدم موجودگی کی وجہ سے دماغ اس اچانک تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتا جس سے طبیعت میں بوجھل پن آنے لگتا ہے۔

ری جنریٹیو بریکنگ کا انوکھا تجربہ
الیکٹرک گاڑیوں کی سب سے منفرد خصوصیت ’ری جنریٹیو بریکنگ‘ ہے جو درحقیقت اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔
اس نظام کے تحت جب ڈرائیور ایکسیلیٹر سے پاؤں ہٹاتا ہے تو گاڑی بریک لگائے بغیر ہی خود بخود سست ہونے لگتی ہے تاکہ ضائع ہونے والی توانائی کو دوبارہ بیٹری میں محفوظ کیا جا سکے۔ مسافروں کے لیے یہ تجربہ غیر متوقع جھٹکوں کی مانند ہوتا ہے خاص طور پر شہر کی ’سٹاپ اینڈ گو‘ ٹریفک میں جہاں رفتار بار بار بدلتی ہے۔
سال 2024 میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن گاڑیوں میں ری جنریٹیو بریکنگ کی شدت زیادہ ہوتی ہے، وہاں مسافروں میں متلی اور چکر آنے کی علامات زیادہ دیکھی گئیں۔
پیش گوئی کا فقدان اور مسافروں کی بے چینی
سائنسی ماہرین کا خیال ہے کہ کسی بھی سفر میں طبیعت کا ٹھیک رہنا اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا دماغ گاڑی کی اگلی حرکت کی کتنی درست پیش گوئی کر سکتا ہے۔
روایتی گاڑیوں میں گیئر بدلنے کی آواز اور انجن کی بڑھتی ہوئی گونج مسافر کو لاشعوری طور پر یہ پیغام دیتی ہے کہ اب گاڑی کی رفتار بڑھے گی۔
الیکٹرک گاڑیوں میں ان اشاروں کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے گاڑی کی حرکت غیر یقینی محسوس ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پچھلی نشست پر بیٹھ کر فون استعمال کرتے ہیں یا کتاب پڑھتے ہیں، ان کا دماغ سڑک کی صورتحال سے بے خبر ہونے کی وجہ سے زیادہ جلد متاثر ہوتا ہے۔
ایک بہتر اور ہموار سفر کی تلاش
اگرچہ الیکٹرک گاڑیاں بعض لوگوں کے لیے پریشان کن ثابت ہو سکتی ہیں لیکن چند سادہ احتیاطی تدابیر سے اس سفر کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ حساس طبیعت کے مالک ہیں تو ہمیشہ اگلی نشست پر بیٹھیں اور اپنی نظریں سامنے سڑک پر جمی رکھیں تاکہ آپ کا دماغ گاڑی کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔ اس کے علاوہ گاڑی میں تازہ ہوا کا گزر اور تیز خوشبوؤں سے پرہیز بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
ڈرائیورز کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ گاڑی کی رفتار میں تبدیلی لاتے وقت نرمی برتیں اور اچانک بریک یا ایکسیلیٹر دینے سے گریز کریں۔

مستقبل کی خود کار گاڑیاں اور چیلنجز
یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم مستقبل کی خودکار یا سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کی بات کرتے ہیں۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ جب ڈرائیور بھی ایک مسافر بن جائے گا اور اس کی توجہ سڑک کے بجائے سکرین پر ہوگی تو موشن سکنس کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی کے ماہرین اب ایسی ای وی ڈیزائن کرنے پر غور کر رہے ہیں جو انسانی حواس کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائیں۔
فی الحال یہ کہنا درست ہوگا کہ جہاں الیکٹرک گاڑیاں ماحول کے لیے بہتر ہیں، وہاں ان کے ہموار اور خاموش سفر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہمیں اپنی سفری عادات میں تھوڑی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔












