مملکت نے سعودی، کویتی مشترکہ زون کے قریب عراق کے سمندری دعوے مسترد کردیے
اقوم متحدہ میں پیش کردہ نقشے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے عراق کی جانب سے سعودی، کویتی منقسم زون کے قریب سمندری دعوے مسترد کردیے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا’ سعودی عرب، عراق کی جانب سے اقوم متحدہ میں پیش کردہ کو آرڈینینٹ فہرستوں اور نقشے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے، جس میں ایسی حد بندیاں شامل ہیں جو مشترکہ زیر آب علاقے کے بڑے حصوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
یہ علاقہ سعودی عرب اور کویت کے مشترکہ زون کے قریب ہے، جہاں دونوں ملکوں کے باہمی معاہدوں کے تحت قدرتی وسائل کی مشترکہ ملکیت ہے۔
بیان میں کہا گیا ’عراق کی جانب سے پیش کردہ نقشہ نہ صرف معاہدوں بلکہ یہ 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کی بنیاد پر طے شدہ اصولوں سے متصادم اور کویت کی سمندری خودمختاری کی بھی خلاف ورزی ہے جن میں ’فشت القید‘ اور ’فشت العیج‘ جیسے بحری علاقے شامل ہیں۔‘
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ ’مملکت کسی بھی ایسے دعوے کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے جس کے تحت مشترکہ زیر آب علاقے میں کسی تیسرے فریق کے حقوق کا دعوی کیا جائے۔‘
مملکت نے زوردیا کہ ’عراق، کویت کی خودمختاری اور اس کی علاقائی سالمیت کا احترام اور دوطرفہ و بین الاقوامی معاہدوں سمیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کی پاسداری کرے۔‘
بیان میں سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 833 (1993 ) کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے تحت کویت اور عراق کے درمیان زمینی و سمندری سرحدوں کا تعین کیا گیا تھا۔
وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ’ اختلافات کے حل کے لیے مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ تدبر و سمجھداری سے کام لیتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور بہتر ہمسائیگی کے اصولوں کے مطابق ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے۔‘
