اٹلی: حادثاتی طور پر آتش بازی کا سامان جل اُٹھنے سے درجنوں گھوڑے بدک گئے، کئی سوار زخمی
اچانک آتش بازی ہونے پر درجنوں گھوڑے دارالحکومت کی سڑکوں پر بے قابو ہو کر دوڑ پڑے (فوٹو: روئٹرز)
اطالوی پولیس نے کہا ہے کہ جمعہ کی رات اٹلی کے یومِ جمہوریہ کی پریڈ کی ریہرسل کے دوران ایک ٹریفک پولیس اہلکار کی جانب سے بغیر اجازت چلائے گئے آتش بازی کے پٹاخوں نے درجنوں گھوڑوں کو بدکنے پر مجبور کر دیا، اور وہ دارالحکومت روم کی سڑکوں پر بے قابو ہو کر دوڑ پڑے جس کے باعث ان پر سوار کئی افراد زخمی ہو گئے۔
عرب نیوز کے مطابق جمعہ کو رات ساڑھے گیارہ بجے سے کچھ دیر پہلے ہونے والے ان اچانک دھماکوں نے رسمی پریڈ کے لیے موجود گھوڑوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جن میں سے کچھ پر سوار موجود تھے جبکہ دیگر کو ہاتھ سے پکڑ کر لے جایا جا رہا تھا۔
تقریباً 35 گھوڑے مصروف شاہراہ ’ویا کرسٹوفورو کولمبو‘ کی طرف بھاگ نکلے، جہاں کچھ ڈرائیوروں نے انہیں سڑک پر دوڑتے ہوئے ویڈیو میں ریکارڈ کیا۔ آخری گھوڑا صبح کے وقت جائے وقوعہ سے تقریباً 14 کلومیٹر (9 میل) دور سے قابو میں لایا گیا۔
کئی سوار گھوڑوں سے گر گئے۔ ایک 22 سالہ فوجی کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور اس کے پھیپھڑے میں سوراخ ہو گیا، تاہم اس کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔ تقریباً 15 گھوڑے زخمی ہوئے، مگر کوئی ہلاک نہیں ہوا۔
روم کی پولیس فورس کے کمانڈر ماریو ڈی سکلاوس نے اتوار کو شائع ہونے والے اخبار ’کوریئرے ڈیلا سیرا‘ کو بتایا کہ اس واقعہ نے ’ادارے اور اس کے اہلکاروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
یہ آتش بازی قدیم ’باتھز آف کاراکالا‘ کے قریب کی گئی، جہاں فوج، نیم فوجی کارابینیری فورس اور پولیس کے گھڑسوار دستے 2 جون کی سالانہ پریڈ کی ریہرسل کر رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک ایمرجنسی یونٹ سے تعلق رکھنے والے ایک بلدیاتی پولیس اہلکار نے گھوڑوں سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر آتش بازی کا کچھ سامان جلایا تھا۔
