Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کئی دہائیوں کی سیاسی روایت سے انحراف: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اسرائیل ڈے پریڈ میں شرکت نہیں کریں گے

ظہران ممدانی، جو نیویارک شہر کے پہلے مسلم میئر ہیں، فلسطینی حقوق کی حمایت کے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
نیویارک شہر کے میئرظہران ممدانی اتوار کے روز سالانہ اسرائیل ڈے کے پریڈ شرکت نہیں کریں گے، جس سے وہ کئی دہائیوں پرانی سیاسی روایت کو توڑ دیں گے۔
ظہران ممدانی نے یہ فیصلہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کے باعث کیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اگرچہ اس پریڈ کے نام وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہے ہیں، لیکن اسرائیل ڈے پریڈ ہمیشہ سے میئرز، گورنرز اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک اہم تقریب رہی ہے، جہاں وہ 1948 میں یہودی ریاست کے قیام کی خوشی منانے کے لیے ففتھ ایونیو پر جمع ہونے والے ہزاروں افراد سے خطاب کرتے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاہم ظہران ممدانی کے لیے معاملہ مختلف ہے۔ دو ہفتے قبل میئر کے دفتر نے ’نکبہ‘ کی یاد میں ایک ویڈیو جاری کی تھی۔ نکبہ ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب ’تباہی‘ ہے، اور یہ 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران تقریباً سات لاکھ فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو اسرائیل کے قیام کے بعد شروع ہوئی تھی۔
ظہران ممدانی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’میں نے انتخابی مہم کے دوران ہی واضح کر دیا تھا کہ میں اس پریڈ میں شرکت نہیں کروں گا، اور اسرائیلی حکومت کے بارے میں اپنے خیالات بھی کھل کر بیان کر چکا ہوں۔‘
تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پریڈ کے پرامن اور محفوظ انعقاد کے لیے پولیس کی بھرپور نفری تعینات کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ میں خود شرکت نہیں کروں گا، لیکن ہماری انتظامیہ کئی ہفتوں سے تیاری کر رہی ہے تاکہ پریڈ میں شریک تمام افراد کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔‘
شہر کی پولیس کمشنر جیسیکا ٹیسچ، جو یہودی ہیں، نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ پریڈ میں شرکت کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’پریڈ میں شریک نہ ہونا میئر کا فیصلہ ہے، جبکہ فخر کے ساتھ شرکت کرنا میرا فیصلہ ہے۔‘
میئر کی غیر موجودگی، اگرچہ پہلے سے متوقع تھی، لیکن اس نے ان کے ناقدین کو ایک بار پھر تنقید کا موقع فراہم کیا ہے، جو اسرائیلی حکومت پر ان کی تنقید کو یہود دشمنی قرار دیتے ہیں۔
مارس شنیئر، جو لانگ آئی لینڈ کی دی ہیمپٹن سائنیگاگ کے بانی سینئر ربی اور فاؤنڈیشن فار اتھنکس انڈرسٹینڈنگ کے صدر ہیں، نے نے ظہران ممدانی کے فیصلے کو ’نیویارک کے تمام یہودی شہریوں کے منہ پر طمانچہ‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم پر ایک احسان کریں، گھر ہی رہیں۔ ہمیں آپ کی ضرورت نہیں، اور ہم آپ کو نہیں چاہتے۔‘
شنیئر نے ممدانی کی نکبہ ویڈیو کو بھی ’پروپیگنڈہ‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں اس دور کے دوران یہودیوں کی بے دخلی کے تاریخی پس منظر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
نیویارک شہر، جہاں امریکہ کی سب سے بڑی یہودی آبادی رہتی ہے، کے میئرز طویل عرصے سے اسرائیل کے نمایاں حامی رہے ہیں اور اکثر اسرائیل کے دورے بھی کرتے رہے ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں امریکی عوام میں اسرائیل کے لیے حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے، اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر ہونے والی تنقید نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔
ظہران ممدانی، جو نیویارک شہر کے پہلے مسلم میئر ہیں، فلسطینی حقوق کی حمایت کے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بطور ریاست وجود رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن ایسی ریاست کے طور پر نہیں جو یہودی شہریوں کو دیگر شہریوں پر فوقیت دے۔ ساتھ ہی انہوں نے نیویارک کے یہودی شہریوں کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے اور شہر کے دفتر برائے انسدادِ یہود دشمنی کی خدمات کو بھی اجاگر کیا ہے۔

شیئر: