2025 کے دوران ایف آئی اے نے 39 ہزار سے زائد مسافر آف لوڈ کیے، وجوہات کیا تھیں؟
پیر 1 جون 2026 14:14
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 میں غیر قانونی ہجرت کی کوشش کے دوران 109 پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایف آئی اے امیگریشن کا کہنا ہے کہ مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے عمل پر اکثر عوامی سطح پر تنقید کی جاتی ہے، تاہم آف لوڈنگ کے فیصلے من مانی بنیادوں پر نہیں کیے جاتے۔
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نعمان صدیقی نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران 39,786 مسافروں کو انٹیلیجنس اطلاعات اور خطرات کے تجزیے پر مبنی نظام کے تحت سفر سے روکا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آف لوڈنگ کا بنیادی مقصد غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام ہے۔ اگرچہ اس عمل پر اکثر عوامی سطح پر تنقید کی جاتی ہے، تاہم یہ فیصلے من مانی نہیں بلکہ امیگریشن خدشات، مشتبہ سفری رجحانات، دستاویزات کی جانچ پڑتال اور متعلقہ ممالک کی سفری شرائط کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر امیگریشن کے مطابق آف لوڈنگ کا بنیادی مقصد انسانی جانوں کا تحفظ اور انسانی سمگلروں کے ہاتھوں استحصال کی روک تھام ہے۔ یہ کریک ڈاؤن غیر قانونی ہجرت کے راستوں سے جڑے متعدد المناک حادثات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش میں 377 پاکستانی جان سے گئے: اے ڈی جی امیگریشن
میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نعمان صدیقی نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً 460 پاکستانی ایسے واقعات کا شکار ہوئے، جن میں کم از کم 377 افراد کی ہلاکت رپورٹ ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 میں غیر قانونی ہجرت کی کوشش کے دوران 109 پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
’اس مسئلے کی سنگینی میں اضافہ جون 2023 کے یونان کشتی حادثے کے بعد ہوا، جس میں کھلے سمندر میں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکینِ وطن ہلاک ہوئے تھے۔‘
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس حادثے کے بعد وزیراعظم کی جانب سے قائم کی گئی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے سخت اقدامات کی سفارش کی تھی، جن میں سے بیشتر اب نافذ کیے جا چکے ہیں۔
’مشتبہ اور حقیقی مسافروں میں فرق کے لیے پانچ رسک پروفائلز تیار کیے ہیں‘
جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے ایف آئی اے نے دسمبر 2024 سے اب تک 2,421 مقدمات درج کیے، جن کے نتیجے میں 3,130 ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا۔
ایف آئی اے کے رسک اینڈ اینالیسس یونٹ نے مشتبہ اور حقیقی مسافروں میں فرق کے لیے پانچ رسک پروفائلز تیار کیے ہیں، جنہیں وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔
ان اقدامات کے بعد بھیک مانگنے سے متعلق ملک بدری میں 75 فیصد اور جعلی دستاویزات سے متعلق ملک بدری میں 31 فیصد کمی آئی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مجموعی طور پر مختلف ممالک سے پاکستانیوں کی ڈیپورٹیشن میں 2025 کے دوران 2024 کے مقابلے میں 16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2025 میں ایف آئی اے کی جانب سے آف لوڈ کیے گئے 39,786 مسافروں کے علاوہ مزید 34,688 افراد غیر ایف آئی اے وجوہات کی بنیاد پر سفر نہ کر سکے۔
حکام نے 96 کروڑ 17 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کی، 8 کروڑ 77 لاکھ روپے برآمد کیے اور 23 کروڑ 96 لاکھ روپے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے۔
ان دیگر وجوہات میں ایئرلائن سے متعلق مسائل اور کسٹمز، انسداد منشیات فورس (اے این ایف)، ایئرپورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) اور پولیس کی جانب سے مطلوب افراد شامل تھے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر امیگریشن کے مطابق مسافروں کی مشکلات کم کرنے کے لیے ایف آئی اے امیگریشن نے زونل دفاتر میں ’پری ڈیپارچر فیسیلیٹیشن ڈیسک‘ قائم کیے ہیں، جہاں مسافر ٹکٹ خریدنے سے قبل اپنی سفری دستاویزات کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔
جو مسافر یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں غلط فہمی یا نامکمل معلومات کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا ہے، وہ متعلقہ بارڈر چیک پوسٹ کے انچارج سے فوری نظرِثانی کی درخواست کر سکتے ہیں، اور اگر وہ اہل قرار پائیں تو انہیں سفر کی اجازت دے دی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ بیرونِ ملک سے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی اور بعض ممالک کی شکایات کے پیشِ نظر محکمہ امیگریشن اور ایف آئی اے نے حالیہ عرصے کے دوران ایئرپورٹس پر بڑی تعداد میں ایسے مسافروں کو آف لوڈ کیا ہے جن پر غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے کا شبہ تھا۔
اگرچہ اس صورتحال میں کئی مسافروں کی جانب سے یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ تمام سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود انہیں آف لوڈ کر دیا گیا، تاہم حکومتی موقف یہی ہے کہ صرف مشتبہ مسافروں اور نامکمل دستاویزات کے حامل افراد کو ہی سفر سے روکا جا رہا ہے۔
