Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 34 شدت پسند ہلاک

سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں 12خوارج کو کامیابی سے انجام تک پہنچایا گیا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستانی فوج نے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مخلتف جھڑپوں میں 34 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گذشتہ روز 24 فروری کو صوبہ خیبر پختونخوا میں چار مختلف جھڑپوں کے دوران ’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 26 خوارج ہلاک کیے گئے، جبکہ بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں ایک کارروائی کے دوران انڈین پراکسی فتنہ الہندوستان سے وابستہ آٹھ خوارج مارے گئے۔‘
سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع میں حسن خیل کے بالمقابل پاکستان-افغانستان سرحد سے دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔ فورسز نے موثر انداز میں اس گروہ کو نشانہ بنایا، اور درست اور مہارت سے کی گئی کارروائی کے نتیجے میں ’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والا ایک خارجی‘ ہلاک کر دیا گیا۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ہلاک ہونے والا خارجی افغان شہری تھا۔
ایک اور کارروائی میں ضلع لکی مروت میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ دورانِ آپریشن سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو موثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین خوارج کو ہلاک کر دیا۔
اسی دوران ضلع بنوں کے عام علاقے نرمی خیل میں دو علیحدہ جھڑپوں کے دوران 10 خوارج کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں 12خوارج کو کامیابی سے انجام تک پہنچایا گیا۔
بیان کے مطابق پانچویں کارروائی کے دوران ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ’فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے آٹھ دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا گیا۔
ہلاک ہونے والے ’انڈین سرپرستی میں کام کرنے والے خوارج اور دہشت گردوں‘ کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ یہ عناصر علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے عزم پر ثابت قدم اور غیرمتزلزل ہیں۔ علاقے میں موجود کسی بھی خارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت جاری انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

 

شیئر: