Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’تصویری یادداشتیں،‘ غزہ کی تباہی سے پہلے کی زندگی کے بارے میں کیا ظاہر کرتی ہیں؟

یہ نمائش ’فوٹو کیغام آف غزہ: ایک نامکمل آرکائیو کی بازیافت‘ کے عنوان سے ستمبر تک جاری رہے گی (فوٹو: عرب نیوز)
ایک خوش حال خاندان پکنک کے لیے جمع ہے۔ ہنستا مسکراتا جوڑا اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی شادی کا جشن منا رہا ہے۔ دو بچے ایک دلکش ساحل پر ٹہل رہے ہیں، بحیرۂ روم کی لہریں ان کے قدموں کو چھو رہی ہیں اور کھجور کے درخت ریت کے کنارے کو گھیرے ہوئے ہیں۔
عرب نیوزاپنی ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ یہ غزہ ہے موجودہ ہولناک حالات سے پہلے کا غزہ جسے فوٹوگرافر کیغام جیغالین نے اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا، جو آرمینیائی تھے اور نسل کشی کے دوران زندہ بچ جانے کے بعد 1944 میں فلسطین میں آ بسے تھے۔
اب ان کے پوتے کیغام جیغالین جونیئر قاہرہ کی جرمن انٹرنیشنل یونیورسٹی میں فیشن سٹڈیز، امیج اور ڈیزائن کے پروفیسر ہیں، جنہوں نے اپنے دادا کی حال ہی میں دریافت ہونے والی بلیک اینڈ وائیٹ تصاویر کا ایک مجموعہ ترتیب دیا ہے جو ایک بہتر دور کی درد بھری بازگشت محسوس ہوتا ہے جس کا تصور کرنا بھی اب ناقابلِ یقین حد تک مشکل ہے۔
فوٹوگرافر کی اپنی زندگی بھی ایک ایسے خطے کی جھلک پیش کرتی ہے جو تقریباً مسلسل ہنگاموں کا شکار رہا ہے۔ 1915 میں اناطولیہ میں پیدا ہونے والے کیغام اپنی والدہ کے ساتھ آرمینیائی نسل کشی سے بچ نکلے اور شام پہنچے۔ والدہ کے انتقال کے بعد انہیں لبنان کے شہر بائیبلوس میں برڈز نیسٹ یتیم خانے نے پناہ دی۔
ان کے پوتے نے 2024 میں لندن کی ’فوٹوگرافرز گیلری‘ میں دیے گئے ایک لیکچر میں ان کی کہانی کو آگے بڑھایا۔
انہوں نے بتایا کہ ’1930 کی دہائی کے آغاز میں وہ برطانوی زیرِانتظام فلسطین کے شہر یروشلم منتقل ہوئے اور مختلف ملازمتیں کیں، جن میں برطانوی بٹالین کے فوجیوں کے لیے ٹیٹو بنانے کا کام بھی شامل تھا۔ یافا میں ان کی میری دادی زیوارت نکاشیان سے ملاقات ہوئی اور ان دونوں نے شادی کر لی۔‘
انہوں نے یافا ہی میں فوٹوگرافی سیکھی۔ 1944 میں یہ جوڑا غزہ منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے ’فوٹو کیغام‘ کے نام سے سٹوڈیو قائم کیا، جو بعد ازاں غزہ کے معاشرے کا ایک اہم ادارہ بن گیا۔

کیغام نے تقریباً چار دہائیوں تک غزہ کی تصویری تاریخ اور یادداشت کو بڑی مستقل مزاجی سے محفوظ کیا (فوٹو: عرب نیوز)

ان کے پوتے کے مطابق، تقریباً چار دہائیوں تک کیغام نے غزہ کی تصویری تاریخ اور یادداشت کو بڑی مستقل مزاجی سے محفوظ کیا چاہے وہ برطانوی تسلط کا دور ہو، مصری حکومت کا زمانہ، 1956 اور پھر 1967 کے بعد کی اسرائیلی جارحیت کا زمانہ، یا 1948 کے نکبہ کے نتیجے میں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی، جس نے انہیں غزہ لا بسایا۔
کیغام جیغالین 1981 میں غزہ میں وفات پا گئے۔ انہوں نے ’1944 کے بعد غزہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا، حتیٰ کہ اُس وقت بھی جب ان کے بچے مصر منتقل ہو گئے تھے۔‘ ان کی تصاویر 2018 تک گمنامی میں پڑی رہیں، جب ان کے بیٹے کو اپنے گھر کی الماری میں تین چھوٹے سرخ ڈبے ملے۔
یہ تصاویر دیگر فلسطینی تارکینِ وطن کے ذریعے ان کے پوتے تک پہنچیں، اور انہیں معلوم تھا کہ کچھ تصاویر اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔
اصل نیگیٹو ماروان طرازی کے پاس تھے، جو فوٹوگرافر کے سابق معاون کے بھائی تھے، مگر اب ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ طرازی 19 اکتوبر 2023 کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔
کیغام جیغالین جونیئر نے اپنی نمائش کے لیے جو تصاویر جمع کی ہیں، ان پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے۔ ان کے مطابق، انہیں اگر تاریخوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا تو دیکھنے والے ان تصاویر کو محض تاریخی اور سیاسی واقعات کے تناظر میں دیکھتے۔‘

کیغام جیغالین جونیئر کی نمائش میں پیش کی گئی تصاویر پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے (فوٹو: عرب نیوز)

اس کے برعکس، جاری تباہی کے پس منظر میں یہ تصاویر نہ صرف اس دور کی دلگداز یاد دہانی ہیں جب غزہ کے لوگ ایک معمول کی زندگی گزارتے تھے، بلکہ ایک مدھم سی امید بھی ہیں کہ شاید ایسے دن پھر کبھی لوٹ آئیں۔
یہ نمائش ’فوٹو کیغام آف غزہ: ایک نامکمل آرکائیو کی بازیافت‘ کے عنوان سے فرانس کے شہر مارسے کے فوٹو سینٹر میں ستمبر تک جاری رہے گی۔

شیئر: