امریکہ، ایران معاہدے کے قریب، جنگ بندی میں توسیع ٹرمپ کی منظوری سے مشروط: رپورٹ
ایراان نے جمعرات کو کویت میں ایک امریکی بیس کو نشانہ بنایا ہے ( فوٹو: اے ایف پی )
امریکہ اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے آوٹ لائن ایگریمنٹ تک پہنچ گئے ہیں، لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے حتمی منظوری باقی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایران نے جمعرات کو کویت میں ایک امریکی بیس کو نشانہ بنایا، جسے واشنگٹن نے ایرانی ڈرون آپریشن قرار دیا۔
’ایکسیوس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران نے 60 روزہ مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے، تاہم اسے صدر ٹرمپ کی جانب سے حتمی منظوری درکار ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اس رپورٹ کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رحجان دیکھنے میں آیا۔
امریکہ اور ایران کے تازہ حملے اگرچہ محدود تھے لیکن اس بات کو اجاگر کیا کہ اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کو ایک پائیدار معاہدے میں تبدیل کیا جائے، جو تین ماہ سے جاری اس جنگ ختم کرے، جس میں ہزاروں اموات ہوئیں اور آبنائے ہرمز کی اہم بحری گزر گاہ کو دوبارہ کھولا جا سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے’ امریکی فورسز نے ایران کے پانچ حملہ آور ڈرون مار گرائے اور بندر عباس کی بندرگاہ میں ایک زمینی کنٹرول سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا جو چھٹا ڈرون لانچ کرنے والا تھا۔‘
کویتی فورسز نے ایک بیلسٹک میزائل کو روک لیا جو کویت کی جانب داغا گیا تھا جہاں ایک بڑا امریکی بیس موجود ہے۔
ایک امریکی اہلکار جنہوں نے فوجی کارروائیوں کے بارے میں کھل کر بات کرنے کے لیے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی روئٹرز کو بتایا ’یہ اقدامات جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے محتاط اور محض دفاعی تھے۔‘
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اپریل کے اوائل میں نافذ ہوئی تھی۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے’ انہوں نے بندر عباس پورٹ کے قریب صبح سویرے حملے میں ملوث امریکی بیس کو نشانہ بنایا ہے۔‘
ایرانی بحریہ نے ایک امریکی آئل ٹینکر پر بھی فائرنگ کی جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے نتیجے میں اسے واپس مڑنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق، امریکی فوج نے اس کے بعد بندر عباس کے اطراف میں کھلے علاقوں کو نشانہ بنایا، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی فوج نے پیر کے روز جنوبی ایران میں بھی کارروائیاں کی تھی، جنہیں اس نے دفاعی اقدام قرار دیا، جبکہ ایران نے انہیں جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
اس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ابھی تک ایران کی معاہدوں کی پیشکشوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے مجوزہ معاہدےکے مسودے کی تفصیلات رپورٹ کیں۔
وائٹ ہاوس میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا’ وہ مشرق وسطی کی جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے حوالے سے کسی جلدی میں نہیں۔ اس کے برعکس انہوں نے ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ ڈیل قریب ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ’ ایران بہت زیادہ سنجیدہ ہے، وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم ابھی تک وہ یہاں تک پہنچے۔ ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں لیکن ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا’ یا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہمیں’کام مکمل‘ کرنا پڑے گا۔‘ ان کا اشارہ دوبارہ جنگ کی طرف تھا۔
