Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے شہروں ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ پر ڈرونز حملوں کی کوشش، ’کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘

پاکستان خطے میں چین کے قریبی ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے چند شہریوں پر چھوٹے ڈرونز کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے جمعے کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز کے ذریعے حملے کی کوشش کی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اینٹی ڈرون سسٹم نے تمام ڈرونز کو مار گرایا جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’ان واقعات نے ایک بار پھر افغان طالبان حکومت اور پاکستان میں دہشت گردی کے درمیان براہِ راست تعلق کو بے نقاب کر دیا ہے۔‘
 سنیچر اور اتوار کی درمیان رات پاکستان حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر ’جوابی کارروائی‘ میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا  کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران کا ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج  نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر کیں۔‘
پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات چند ماہ سے کشیدہ ہیں. پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے ارکان کو اپنے ہاں پناہ دیتی ہے اور وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں جبکہ افغانستان اس سے انکار کرتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ حالیہ کارروائی افغان فورسز کی جانب سے جمعرات کی رات پاکستانی سرحدی افواج پر حملے کے بعد کی گئی جو اسلام آباد کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کا ردعمل تھا۔
پاکستان اور افغانستان فوری جنگ بندی کریں: چین
چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جاری پرتشدد جھڑپوں کو ختم کرانے کے لیے فریقین سے رابطے میں ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیجنگ نے ان حالات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان خطے میں چین کے قریبی ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے تاہم بیجنگ خود کو افغانستان کا ’دوست پڑوسی‘ بھی قرار دیتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کی جانب سے جمعے کو کابل سمیت افغانستان کے بڑے شہروں پر بمباری کے بعد چین ’تنازع میں اضافے پر شدید فکر مند‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’پرامن رہیں، تحمل کا مظاہرہ کریں، جلد از جلد جنگ بندی کریں اور مزید خونریزی سے بچیں۔‘
ماؤ نینگ کا مزید کہنا تھا کہ ’چین اپنے ذرائع سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کو حل کرانے کے لیے مسلسل ثالثی کر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ اور پاکستان و افغانستان میں موجود چینی سفارت خانے اس معاملے پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

شیئر: