امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں ’بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکی جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ حملے ایرانی میزائلوں کو تباہ کرنے اور اس کی بحریہ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بارہا دی گئی ان تنبیہات کے بعد کی گئی ہیں کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو جاری رکھا تو اس پر دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔
سنیچر کو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’میں یہ بیان ہلکے انداز میں نہیں دے رہا۔ ایرانی حکومت قتل کی خواہاں ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد امریکہ نے ’ایران میں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں شروع کر دی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ pic.twitter.com/irUQZLARnc
— Urdu News (@UrduNewsCom) February 28, 2026
انہوں نے کہا کہ ’بہادر امریکی ہیروز کی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں اور ہمیں جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو اکثر جنگ میں ہوتا ہے لیکن ہم یہ اقدام صرف آج کے لیے نہیں کر رہے۔ ہم یہ مستقبل کے لیے کر رہے ہیں اور یہ ایک عظیم مقصد ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے ایران کی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کے ارکان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے اور وعدہ کیا کہ انہیں استثنیٰ دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق دوسرا راستہ ’یقینی موت‘ ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے متعدد مذاکرات ہوئے۔ تازہ ترین دور جمعرات کو ہوا تاہم کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران نے انکار کر دیا جیسا کہ وہ دہائیوں سے کرتا آیا ہے۔ انہوں نے اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کے ہر موقع کو مسترد کیا اور اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔‘
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) February 28, 2026
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے سنیچر کو ایران پر ایک پیشگی حملہ کیا ہے جس نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تنازعے میں دھکیل دیا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد تہران کے مغرب کے ساتھ طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع کے سفارتی حل کی اُمیدیں مزید کم ہو گئی ہیں۔
مزید پڑھیں
نیو یارک ٹائمز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ کی طرف سے ایران پر حملے جاری ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘
ایران کے دارالحکومت میں ہونے والا یہ حملہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ہوا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے دفاتر کے علاقے میں دھماکے کی تصدیق کی۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حملوں کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ یہ امکان بھی رد نہیں کیا گیا کہ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا گیا ہو۔
سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کی یونیورسٹی سٹریٹ اور ’جمہوری‘ علاقے میں کئی میزائل داغے گئے جبکہ شمالی سید خندان علاقے میں ممکنہ طور پر دھماکہ ہوا۔
اسنا کے مطابق وسطی تہران میں پاسچر سٹریٹ کے قریب بھی دھوئیں کے گہرے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنیچر کو اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ’اسرائیل نے ایران پر پیش بندی کے تحت (احتیاطاً پہلے) حملہ کیا تاکہ اسرائیل کے خلاف خطرات کو ختم کیا جا سکے۔‘
ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے کئی مہینوں سے واشنگٹن کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی تھی اور حملے کی تاریخ ہفتوں پہلے طے کی گئی تھی۔

امریکی فوج نے اس حملے پر فوری تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سنیچر کے روز تہران میں دھماکے سنے گئے اور اسرائیل میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر 15 منٹ پر سائرن بجنے لگے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’عوام کو تیار کرنے کے لیے پیشگی انتباہ جاری کیا ہے کہ ممکن ہے اسرائیل کی طرف میزائل داغے جائیں۔‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
اسرائیل کے ایئرپورٹس کی اتھارٹی نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں پر نہ آئیں۔ جب سیکورٹی صورتحال اجازت دے گی تو ملک کی فضائی حدود جلد کھل جائیں گی اور اسرائیل کے لیے پروازیں شروع ہو جائیں گی۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایران کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں۔











