امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ’وطن کے دفاع کا وقت آ پہنچا‘: ایران
سنیچر کی صبح امریکہ اور اسرائیل نے ایران بھر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سنیچر کو ایران پر کیے گئے مشترکہ حملے کے بعد تہران کی وزارتِ خارجہ نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اپنی سرزمین کے دفاع میں ’ایک لمحے کی بھی ہچکچاہٹ‘ سے کام نہیں لے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ وطن کا دفاع کیا جائے اور دشمن کی فوجی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جائے۔‘
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنیچر کی صبح امریکہ اور اسرائیل نے ایران بھر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر ایرانی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں۔‘ ایک ایسا غیر معمولی بیان جس سے اشارہ ملتا ہے کہ دونوں اتحادی شاید برسوں کی کشیدگی کے بعد ایران کی مذہبی حکمرانی کا خاتمہ چاہ رہے ہوں۔
حملوں کا پہلا نشانہ تہران کے وسط میں واقع وہ بڑا کمپاؤنڈ بتایا جا رہا ہے جہاں ایران کے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے وقت خامنہ ای وہاں موجود تھے یا نہیں۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ’47 برسوں سے ایرانی حکومت ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعروں کے ساتھ خونریزی اور قتل و غارت کی ایک نہ ختم ہونے والی مہم چلاتی رہی ہے، جس کا نشانہ امریکہ، ہمارے فوجی اور کئی ممالک کے بے گناہ لوگ بنتے رہے ہیں۔‘
انہوں نے ایرانی شہریوں کو حملوں کے دوران محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت کی، لیکن ساتھ ہی کہا کہ ’جب ہم اپنا کام مکمل کر لیں تو اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیجیے۔ یہ آپ کے لیے ہوگا۔‘
