Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی کا نیا قانون، کرپٹو کو قانونی حیثیت مل جائے گی؟

حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں پاکستان ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 جاری کیا تھا (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے سینیٹ نے ورچوئل اثاثہ جات بل 2025 کی منظوری دے دی ہے جس کی حتمی منظوری قومی اسمبلی سے حاصل کی جائے گی، جو آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
بل کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ قانونی اور منظم ہو جائے گی۔ کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور سرمایہ کار محفوظ طریقے سے کرپٹو سمیت دیگر ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بھی قانونی طور پر فعال ہو جائے گی، جو کمپنیوں کو لائسنس جاری کرے گی اور مارکیٹ کی نگرانی یقینی بنائے گی۔
لیکن ان سطور میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں پاکستان ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 جاری کیا تھا، جس میں ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سمیت دیگر ضوابط شامل تھے۔ اس آرڈیننس کو دو بار توسیع دی گئی، تاہم بعد ازاں اسے مستقل قانونی شکل دینے کے لیے بل کی صورت میں پارلیمان میں پیش کیا گیا۔
ابتدائی طور پر پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کا بل سال 2024 میں سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ نے ’ریگولیشن آف ورچوئل ایسٹس‘ کے نام سے سینیٹ میں پیش کیا تھا، لیکن حکومت کی جانب سے اس کی منظوری سے قبل ہی آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔ اب آرڈیننس کی مدت کو دیکھتے ہوئے اسی بل کو ترامیم کے ساتھ سینیٹ سے منظور کیا گیا ہے۔
ورچوئل اثاثہ جات بل کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
سینیٹ سے منظور شدہ بل کے تحت سب سے پہلے تو پاکستان میں ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جانی ہے جس کا کام کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنا، مارکیٹ کی نگرانی کرنا اور قواعد و ضوابط کی پابندی کو یقینی بنانا ہو گا۔
اردو نیوز کو دستیاب بل کے مطابق، جو بھی افراد یا کمپنیاں ورچوئل اثاثے فراہم کریں گی، ان کے لیے اس اتھارٹی سے لائسنس لینا لازمی ہوگا۔ یاد رہے صدارتی آرڈیننس کے تحت قائم کی گئی ریگولیٹری اتھارٹی دو کمپنیوں کو لائسنس دے چکی ہے۔
علاوہ ازیں، بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو سے جڑی غیر قانونی سرگرمیوں پر پابندی ہو گی جبکہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے بھی شقیں شامل کی گئی ہیں۔

بل میں سرمایہ کاروں اور صارفین کے تحفظ کے لیے قواعد بھی وضع کیے گئے ہیں (فوٹو: پکسابے)

ترمیمی بل کے تحت اتھارٹی کو اختیار ہوگا کہ وہ منی لانڈرنگ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو پانچ سال تک قید اور پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکے۔
مزید برآں، بل میں سرمایہ کاروں اور صارفین کے تحفظ کے لیے قواعد بھی وضع کیے گئے ہیں تاکہ فراڈ، دھوکہ دہی اور مالی نقصان کے خطرات کم سے کم ہوں۔
اردو نیوز نے ورچوئل اثاثہ جات بل کو سینیٹ میں پیش کرنے والے قانون ساز سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ سے بھی گفتگو کی ہے اور اس بل سے متعلق مزید جاننے کی کوشش کی ہے۔
اُنہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’بل کا بنیادی مقصد کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کرنا، سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور مائننگ کی سرگرمیوں کو قانونی شکل دینا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس شعبے کے لیے ریگولیٹری باڈی موجود ہوگی جو نئی کمپنیوں کو لائسنس دینے اور نئے کرنسی کوائنز کے اجرا کی اجازت دینے جیسے معاملات کی نگرانی کرے گی۔‘
سینیٹر افنان اللہ نے مزید بتایا کہ ’بل میں تکنیکی اور انفارمیشن سکیورٹی کے حوالے سے بھی واضح ضوابط شامل کیے گئے ہیں تاکہ مارکیٹ محفوظ اور شفاف رہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’بل میں کچھ ترامیم ضرور کی گئی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ وہی بل ہے جو انہوں نے 2024  میں پیش کیا تھا۔‘

سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ سے گفتگو کی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ایکسچینجز کی لائسنسنگ فیس نسبتاً زیادہ ہے (فوٹو: اے پی پی)

ڈاکٹر افنان نے بل کے ممکنہ اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’رپورٹس کے مطابق سال 2021 میں پاکستانیوں کے پاس موجود کرپٹو اثاثوں کی مالیت تقریباً 20 ارب ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بل کی منظوری کے بعد حکومت کرپٹو لین دین سے ٹیکس وصول کرنے کے ساتھ ساتھ رقوم کے بہاؤ کا باقاعدہ ریکارڈ بھی رکھ سکے گی، جو اس سے قبل ممکن نہیں تھا۔‘
تاہم کرپٹو کرنسی کے ماہرین اس نکتے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ اگر کوئی نوجوان نئی کمپنی یا ایکسچینج قائم کرنا چاہے تو لائسنس فیس اس قدر زیادہ ہے کہ ایک عام فرد کے لیے اسے برداشت کرنا آسان نہیں۔
اس حوالے سے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ سے گفتگو کی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ایکسچینجز کی لائسنسنگ فیس نسبتاً زیادہ ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو مائننگ کا عمل اتنا مہنگا نہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ جہاں بجلی گھر بند پڑے ہیں، وہاں خصوصی مائننگ زونز قائم کیے جا سکتے ہیں تاکہ لوگ وہاں کرپٹو مائننگ کر سکیں۔
ان کے مطابق کیپیسٹی پیمنٹس کے تناظر میں حکومت کو بجلی گھروں کو ہر حال میں ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں، اس لیے ایسی جگہوں کو استعمال میں لانا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سٹیٹ بنک کے کرپٹو سے متعلق ضوابط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب پارلیمان سے کوئی قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس کے بعد ریگولیٹر کے جاری کردہ مخصوص ایس او پیز مؤثر نہیں رہتے اور قانونی فریم ورک بالادست حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

عبدالرؤوف شکوری نے خبردار کیا کہ اس شعبے میں فراڈ اور جعلی سرمایہ کاری سکیموں کا خطرہ موجود رہتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

امریکہ میں مقیم اور ورچوئل اثاثہ جات سروسز سمیت مالیاتی قوانین پر گہری نظر رکھنے والے ماہر عبدالرؤوف شکوری کا کہنا ہے کہ ’مجوزہ ورچوئل اثاثہ بل میں اب بھی کئی خلا اور فریم ورک کی کمزوریاں موجود ہیں۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ ’موجودہ معیار اور شرائط ایسی ہیں جن پر نوجوان اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد پورا نہیں اتر سکتے۔‘
ان کے مطابق لائسنس فیس کروڑوں سے لے کر اربوں روپے تک جا سکتی ہے، جو صرف بڑے سرمایہ کاروں یا کاروباری گروپس کے لیے ہی موزوں ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ حکومت ایک ہائی وولیٹائل شعبے کو ریگولیٹ کرنے جا رہی ہے اور بنیادی قانون سازی بھی کر لی گئی ہے، تاہم ذیلی قوانین اب تک اس سے ہم آہنگ نہیں۔ کمپنی رجسٹریشن اور سٹیٹ بنک سے متعلق بعض قواعد بھی اس نئے فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتے، جس سے عملدرآمد میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
انہوں نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں میں نئے آنے والے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ اس شعبے میں فراڈ اور جعلی سرمایہ کاری سکیموں کا خطرہ موجود رہتا ہے جس کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو اس حوالے سے واضح حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ صارفین کو دھوکہ دہی اور مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے بتایا کہ ’حکومت کو سخت نگرانی یقینی بنانا ہوگی۔ مجوزہ پانچ سالہ سزا بین الاقوامی معیار، جہاں بعض ممالک میں دس سال تک قید کی سزائیں دی جاتی ہیں، کے مقابلے میں کم ہے۔ لہٰذا پاکستان کو عالمی معیارات اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔‘
انہوں نے ساتھ ہی یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’حکومت کی جانب سے اگر لائسنسنگ کے عمل کو مکمل اور شفاف بنایا جائے اور کمپنیوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو بیرونِ ملک کرپٹو میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی بھی اپنا سرمایہ ملک میں منتقل کر سکتے ہیں، جس سے معیشت کو تقویت مل سکتی ہے۔‘

پاکستان کرپٹو کونسل تشکیل دی ہے جس کے چیئرمین وفاقی وزیر خزانہ ہیں (فوٹو: وزارت خزانہ)

حکومت کے کرپٹو کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات 
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں ڈیجیٹل کرنسی کو باقاعدہ قانونی دائرہ کار میں لانے اور اسے ریگولیٹ کرنے کے لیے حالیہ کچھ عرصے میں مختلف اقدامات کیے ہیں۔
وفاقی حکومت نے پاکستان کرپٹو کونسل تشکیل دی ہے، جس کا مقصد کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے حکومتی حکمتِ عملی تیار کرنا ہے۔ اس کونسل کے چیئرمین وفاقی وزیر خزانہ ہیں۔
علاوہ ازیں، پاکستان نے سٹریٹیجک بٹ کوائن ریزرو قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک میں بٹ کوائن کی ملکیت اور استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید یہ کہ حکومت نے تقریباً دو ہزار میگا واٹ بجلی کرپٹو مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے مخصوص کی ہے تاکہ مائننگ کے دوران بجلی کے شارٹ فال یا غیرقانونی استعمال کو روکا جا سکے۔

شیئر: