مشرق وسطیٰ، یوکرین اور ایشیا میں کشیدگی، امریکی دفاعی کمپنیوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ
مشرق وسطیٰ، یوکرین اور ایشیا میں کشیدگی، امریکی دفاعی کمپنیوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ
بدھ 22 اپریل 2026 9:11
امریکی دفاعی کمپنیوں نے پہلی سہ ماہی میں آرڈرز میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی دفاعی کمپنیوں نے فوجی سازوسامان کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ رپورٹ کیا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے نئے آرڈرز دیے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق منگل کو جاری ہونے والی آمدنی کی رپورٹس نے اشارہ دیا کہ 2025 میں مضبوط کارکردگی کے بعد 2026 بھی ایک اور طاقتور سال ثابت ہوگا، جس کی وجہ غزہ اور یوکرین میں جاری تنازعات، روس کی یورپی فضائی حدود میں مداخلت، چین اور تائیوان کے کشیدہ تعلقات، اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔
کشیدگی میں اضافے کے باعث مزید حکومتیں فوجی سازوسامان کا آرڈر دے رہی ہیں۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی تنازع کا شکار ہیں، انہیں اپنے ذخائر پورا یا مشینری کو درست رکھنے کے لیے مزید اخراجات کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔
امریکی دفاعی کمپنیوں آر ٹی ایکس، نارتھروپ گرومن اور جی ای ایرو سپیس نے پہلی سہ ماہی میں آرڈرز میں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔
آر ٹی ایکس کے سی ای او کرس کیلِیو نے وال سٹریٹ کے تجزیہ کاروں سے گفتگو میں کہا کہ کمپنی ’مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پائیدار حل‘ کی امید رکھتی ہے، لیکن ساتھ ہی کمپنی پینٹاگون کے ساتھ مل کر ’اسلحہ سازی کی پیداوار کو تیز کرنے‘ پر بھی کام کر رہی ہے۔
امریکی حکام نے حالیہ مہینوں میں ٹوماہاک، پیٹریاٹ اور جی ای ایم ٹی میزائلوں سمیت دیگر ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے کے نئے معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔
آر ٹی ایکس کی ذیلی کمپنی ریتھیون نے پہلے ہی پینٹاگون کے ساتھ پانچ بڑے معاہدوں کا اعلان کیا تھا، جنہیں کرس کیلِیو نے ’قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم‘ قرار دیا۔ کمپنی پہلے ہی اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے تقریباً 90 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔
کرس کیلِیو نے کہا کہ ‘موجودہ صورتحال واضح طور پر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ گولہ بارود، دفاعی صلاحیت کی گہرائی، مربوط فضائی اور میزائل دفاعی ٹیکنالوجی، اور مزید جدید صلاحیتیں درکار ہیں تاکہ بدلتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔‘
لیری کلپ نے کہا کہ کمپنی توقع رکھتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور اس کے اثرات موسمِ گرما تک جاری رہیں گے (فوٹو:اے ایف پی)
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر بھی واقعی بہت مضبوط طلب دیکھ رہے ہیں۔‘ کمپنی نے اس دوران پورے سال کے لیے اپنی کئی مالی پیش گوئیوں میں اضافہ کیا۔
اسی طرح جی ای ایرو سپیس نے اپنی پہلی سہ ماہی کو ’مضبوط‘ قرار دیا، جس میں آمدنی میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ کمپنی کے سربراہ لَیری کلپ کے مطابق اس کی وجہ ’تیزی سے بدلتا ہوا جغرافیائی سیاسی ماحول‘ ہے۔
لیری کلپ نے کہا کہ کمپنی توقع رکھتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور اس کے اثرات موسمِ گرما تک جاری رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی منصوبوں میں کمپنی ’امریکی اور اتحادی افواج کی اعلیٰ ترجیحی فوجی ضروریات کو تیزی سے پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔‘
تاہم ایئربس اور بوئنگ کے لیے انجن بنانے والی کمپنی کو کو جنگ کے کچھ منفی اثرات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کا سفر کرنے میں مشکلات کی وجہ سے اس کے مرمت کے کاروبار پر اثر پڑا۔
نئی تنصیبات
نارتھروپ گرومن میں بھی مقصد یہی ہے کہ ہتھیاروں کے آرڈرز کو جتنی جلدی ممکن ہو پورا کیا جائے۔
کمپنی کی سی ای او کیتھی وارڈن کے مطابق کمپنی نے گزشتہ دو برسوں میں امریکہ میں 20 نئی مینوفیکچرنگ تنصیبات نصب کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ تنازع نے واضح طور پر فوری ضرورت کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔’
آر ٹی ایکس کے کرس کیلِیو نے کہا کہ پینٹاگون کے حالیہ معاہدے سپلائی چین کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے واضح سمت دیں گے، جو نہایت اہم ہے۔
امریکی نائب وزیر دفاع جولز ہرسٹ نے ایک بینٹاگون بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مالی سال 2027 کے بجٹ میں 1.5 کھرب ڈالر کی درخواست کی گئی ہے، جسے انہوں نے امریکی فوج کے لیے ’نسلوں پر محیط سرمایہ کاری‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق یہ 42 فیصد اضافہ دفاعی صنعت کو مزید مضبوط کرے گا، بڑے ہتھیاروں کی پیداوار بڑھائے گا، سپلائی چین کو بہتر کرے گا اور ہزاروں چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو سہارا دے گا۔
بوئنگ، جس کا دفاعی شعبہ بھی ہے، بدھ کو اور لاک ہیڈ مارٹن جمعرات کو اپنی آمدنی رپورٹ شائع کرے گا۔