انڈیا کی شمالی ریاست بہار کے ایک دور افتادہ گاؤں کے 19 سالہ پیوش کی کہانی بالی وڈ کی کسی کہانی سے کم نہیں جس میں ایک نوجوان ایک خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ دیتا ہے۔
آج سے کوئی پانچ سے قبل 15 سال کی عمر میں ایک دبلے پتلے لڑکے پیوش راج نے ایتھلیٹ بننے کے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنے گھر کو چھوڑ کر ریاستی دارالحکومت پٹنہ کے لیے ٹرین پکڑی۔
یہ ایک ایسے سفر کی شروعات تھی جو انھیں دنیا بھر میں نہ جانے کہاں کہاں لے جانے والا ہے۔
مزید پڑھیں
-

-

ڈبلیو بی او ورلڈ باکسنگ چیمپئن بننے والے حمزہ شیراز کون ہیں؟
Node ID: 904635
-

لیکن ان کی جدو جہد اپنی مثال آپ ہے۔ غربت، محرومی، طنز اور مسلسل ناکامیوں کے باوجود پیوش نے اپنے خواب کو مرنے نہیں دیا اور آج وہ انڈیا میں ایتھلیٹکس کی نئی امید بن چکے ہیں۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل ہانگ کانگ میں منعقدہ ایشیائی جونیئر ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں مردوں کی 4×400 میٹر ریلے دوڑ میں کانسی کا تمغہ جیت کر پیوش راج ریاست بہار کے پہلے ایسے ایتھلیٹ بن گئے جنہوں نے کسی بھی سطح پر بین الاقوامی ایتھلیٹکس تمغہ حاصل کیا۔
لیکن ان کا یہ کارنامہ کرکٹ کے میدان میں دھوم مچانے والے 15 سالہ بہاری لڑکے ویبھو سوریہ ونشی کی روشنی میں کہیں گم ہو گيا۔
حالانکہ یہ صرف ایک تمغہ نہیں بلکہ اس ریاست کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جسے برسوں سے کھیلوں کے میدان میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔
28 جنوری 2007 کو پیدا ہونے والے پیوش راج کا تعلق بہار کے ضلع روہتاس کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنجاری سے ہے۔ یہ علاقہ کبھی نکسل یعنی ماؤ نواز باغیوں کی تحریک کے سبب جانا جاتا تھا۔ کھیلوں کی سہولتیں تو دور کی بات، وہاں ایتھلیٹ بننے کا تصور بھی لوگوں کے لیے اجنبی تھا۔
گاؤں کے نوجوان صرف فوجی بھرتی کی تیاری کے لیے دوڑ لگایا کرتے تھے۔ چودہ سالہ پیوش بھی انہی کے ساتھ دوڑنے لگے، مگر جلد ہی سب کو اندازہ ہوگیا کہ اس لڑکے میں کچھ غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔

پیوش کے والد کا انتقال اُس وقت ہوگیا تھا جب وہ صرف نو برس کے تھے۔ گھر کے حالات انتہائی کمزور تھے۔ بڑے بھائی کے ساتھ مل کر وہ گھر میں آٹا پیسنے کی ایک چھوٹی سی چکی چلاتے تھے جبکہ والدہ ایک سیلف ہیلپ گروپ میں کام کرتی تھیں۔
ایسے میں کھیل کے خواب دیکھنا بھی ایک طرح کی جسارت تھی، مگر پیوش کے دل میں صرف ایک جنون تھا۔ انہوں نے فلم ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ دیکھی تو مشہور ایتھلیٹ ملکھا سنگھ ان کے ہیرو بن گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس فلم کا پوسٹر آج بھی ان کے گھر میں کہیں محفوظ ہے۔
پندرہ برس کی عمر میں وہ محض تین ہزار روپے لے کر پٹنہ پہنچے تاکہ ایتھلیٹکس کی تربیت حاصل کرسکیں۔ لیکن جلد ہی رقم ختم ہوگئی۔ نہ رہنے کا انتظام تھا اور نہ کھانے کا۔ ایسے میں انہوں نے پاٹلی پترا سپورٹس کمپلیکس کے ایک افسر سے درخواست کی کہ انہیں کوئی کام دے دیا جائے تاکہ وہ اپنی تربیت جاری رکھ سکیں۔ قسمت نے یہیں سے کروٹ لی۔
وہ افسر دراصل بہار سٹیٹ سپورٹس اتھارٹی کے اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل اور سابق بین الاقوامی ایتھلیٹ رویندرن شنکرن تھے۔ انہوں نے پیوش کا ایک فوری ٹیسٹ لیا۔ آٹھ سو میٹر کی دوڑ میں پیوش نے غیر متوقع طور پر شاندار تیز رفتار کا مظاہرہ کیا۔ چونکہ وہ نابالغ تھے اس لیے ملازمت نہیں دی جاسکتی تھی، مگر انہیں سپورٹس ہاسٹل کی کینٹین میں کام کرنے کی اجازت مل گئی۔
پیوش صبح پانچ بجے سے تربیت کرتے، پھر دن بھر کینٹین میں برتن دھوتے، فرش صاف کرتے اور لوگوں کے سامنے کھانا لگاتے۔ شام کو دوبارہ پریکٹس کے بعد رات تک اس کا کام جاری رہتا۔
پیوش نے اپنی ساری پریشانیان اپنے گھر والوں سے چھپائی رکھی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر گھر والوں کو معلوم ہوگیا تو وہ واپس بلا لیں گے۔
سپورٹس سٹار کی ایک رپورٹ کے مطابق پیوش آج بھی کہتے ہیں: ’کوئی کام آپ کے خواب سے چھوٹا نہیں ہوتا۔‘

چار ماہ بعد انہوں نے بہار انڈر16 چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور تمغے جیت کر سب کی توجہ حاصل کرلی۔ مگر ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ایک ٹرائل کے دوران ٹخنے میں چوٹ لگنے کے سبب وہ مطلوبہ پوزیشن حاصل نہ کرسکے۔ ایسے میں انہوں نے ہیکسا تھلون مقابلے میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، حالانکہ انہیں جیولین تھرو اور ہائی جمپ کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا۔ حیرت انگیز طور پر وہ اس مقابلے میں بھی کامیاب ہوگئے۔
اس کے بعد قومی سطح پر ان کی شناخت بننے لگی۔ پہلے ہیکسا تھلون، پھر ڈیکاتھلون اور آخرکار چار سو میٹر دوڑ میں ان کی غیر معمولی رفتار نے کوچز کو متاثر کیا۔ جلد ہی یہ طے ہوگیا کہ ان کی اصل صلاحیت 400 میٹر میں ہے۔
پٹنہ سے انہوں نے جنوبی انڈیا کے معروف شہر حیدرآباد کا رخ کیا جہان انہوں نے سابق قومی کوچ این رمیش کی نگرانی میں آن لائن تربیت حاصل کرنا شروع کی۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلسل محنت کے نتیجے میں ان کی رفتار بہتر ہوتی گئی۔ کھیلوں کے ماہرین حیران تھے کہ ایک ایسا لڑکا جس کے پاس نہ مناسب خوراک تھی، نہ جدید تربیتی سہولتیں، وہ قومی سطح پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔
بالآخر 2026 میں پانچ سال کی محنت کے بعد ان کا خواب پورا ہوا جب انہیں انڈین ٹیم میں جگہ ملی۔ بنگلورو میں جونیئر فیڈریشن کپ کے دوران انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی اور ایشیائی جونیئر چیمپئن شپ کے لیے منتخب ہوگئے۔
ہانگ کانگ پہنچنے تک بھی مشکلات نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ویزا مسائل کے باعث انہیں دہلی ایئرپورٹ سے واپس لوٹنا پڑا۔ بعد میں وہ مقابلے کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے ہانگ کانگ پہنچے۔ مناسب آرام اور وارم اپ کے بغیر انہوں نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ ایک اور ریلے مقابلے میں ان کی ٹیم کو نااہل قرار دے دیا گیا جس کے بعد پیوش صدمے سے بے ہوش ہوگئے۔










