کشمیر کی کشیدگی کا اثر مری تک پہنچ گیا، انٹرنیٹ بندش سے سیاح اور مقامی افراد پریشان
پیر 8 جون 2026 13:23
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدہ صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔
تاہم، انٹرنیٹ کی اس بندش کے اثرات صرف کشمیر تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کی زد میں پاکستان کے معروف سیاحتی مقامات مری اور کوٹلی ستیاں بھی آئے ہیں، جہاں گزشتہ چند روز سے ڈیجیٹل مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہے۔
کشمیر کی سرحد سے جڑے مری اور کوٹلی ستیاں کے دیہی علاقوں میں تو انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ مری شہر اور کوٹلی ستیاں کے صدر مقام میں بھی ڈیٹا سپیڈ انتہائی سست ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس صورتحال نے جہاں ان سیاحتی مقامات کی مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے، وہی دور دراز کے علاقوں سے مری اور کوٹلی ستیاں پہنچنے والے سیاح بھی پریشان ہیں۔
اردو نیوز نے موقف جاننے کے لیے جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور مری کی ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
تاہم، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ٹی اے اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ مری میں انٹرنیٹ سروسز کو الگ سے بند نہیں کیا گیا، بلکہ یہ مسئلہ کشمیر میں کی جانے والی معطلی کے باعث پیدا ہوا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ مری، کوٹلی ستیاں اور کشمیر کے علاقے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے وہاں سروسز کی مکمل بندش کا اثر ان سرحدی علاقوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کے وقت کے بارے میں حکام نے کوئی حتمی وقت بتانے سے گریز کیا اور اسے کشمیر کی مجموعی صورتحال کی بہتری سے مشروط قرار دیا ہے۔
مقامی افراد کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟
مری اور کوٹلی ستیاں میں انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے حوالے سے جب ہم نے وہاں کے مقامی افراد سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب سے انٹرنیٹ سروسز متاثر ہے۔
مری کے نواحی گاؤں عالیوٹ سے تعلق رکھنے والے خرم عباسی، جو پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں اور بیرونِ ملک مقیم طلبہ کو آن لائن پڑھاتے ہیں، نے اردو نیوز کو بتایا کہ گزشتہ تین روز سے انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث وہ کوئی کلاس نہیں لے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مری شہر جا کر بھی متبادل انتظام کرنے کی کوشش کی، لیکن وہاں بھی ڈیٹا سپیڈ نہ ہونے کے برابر تھی جس کی وجہ سے وہ پڑھانے میں ناکام رہے۔
اسی طرح کوٹلی ستیاں کے ایک مقامی شہری ہارون ستی نے اردو نیوز کو بتایا کہ کوٹلی ستیاں خاص طور پر وہ علاقے جو کشمیر سے بالکل متصل ہیں، وہاں انٹرنیٹ سروسز مکمل بند ہیں، جبکہ شہر میں انٹرنیٹ سروس کسی حد تک چل رہی ہے لیکن اس کی رفتار بھی بہت سست ہے۔
سیاح بھی پریشان
انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے صرف مقامی افراد ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ دور دراز کے علاقوں سے مری اور کوٹلی ستیاں آنے والے سیاح بھی پریشان ہیں۔
لاہور سے فیملی کے ہمراہ مری کی معروف مال روڈ پر آئے ہوئے ایک سیاح محمد عیسیٰ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ روز سے یہاں موجود ہیں لیکن انٹرنیٹ نہ ہونے سے ان کی چھٹیوں کا مزہ کرکرا ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں سوشل میڈیا پر تصاویر یا ویڈیوز اپلوڈ کرنا تو دور کی بات، واٹس ایپ پر آنے والا ایک معمولی وائس نوٹ ڈاؤن لوڈ کرنا بھی محال ہو چکا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مجھے یہ لگا کہ شاید میرے اپنے انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے، لیکن جب انہوں نے دیگر سیاحوں سے بھی اس کا ذکر سنا تو معلوم ہوا کہ یہاں مجموعی طور پر انٹرنیٹ سروسز متاثر ہیں۔
مری اور کوٹلی ستیاں کے مقامی رہائشیوں سمیت وہاں موجود سیاحوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سیاحتی مقامات پر انٹرنیٹ سروسز کو فوری اور مکمل طور پر بحال کیا جائے تاکہ ان کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
