Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’1992 ورلڈ کپ جیسا ایک اور لمحہ؟‘ پاکستانی ٹیم فور تھرائیوز نے پب جی موبائل گلوبل اوپن سیزن 1 جیت لیا

پاکستانی ای سپورٹس کے لیے ایک ’تاریخی دن‘ اس وقت رقم ہوا جب پاکستانی ٹیم فور تھرائیوز (4Thrives) نے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں کھیلے جانے والے پب جی موبائل گلوبل اوپن (پی ایم جی او) سیزن 1 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
دنیا بھر کی 32 ٹیموں پر مشتمل اس عالمی مقابلے میں پانچ لاکھ ڈالر کے انعامی فنڈ کے لیے مقابلہ ہوا، جہاں پاکستانی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے لیے پہلی عالمی پب جی موبائل ٹرافی جیت لی۔
فور تھرائیوز نے ’لاسٹ چانس کوالیفائر‘ کے ذریعے ایونٹ میں جگہ بنائی تھی، تاہم فائنل مرحلے میں ٹیم نے ابتدا ہی سے اپنی برتری قائم رکھی۔
فور تھرائیوز نے فائنل مرحلے کے پہلے روز چھ میچوں میں 82 پوائنٹس حاصل کر کے پہلی پوزیشن سنبھالی۔
ٹورنامنٹ کے آخری مرحلے میں ’سمیش رول‘ نافذ کیا گیا، جس کے تحت مقررہ پوائنٹس کی حد عبور کرنے والی ٹیم کو چیمپیئن بننے کے لیے ایک ’چکن ڈنر‘ بھی درکار تھا۔
پاکستانی ٹیم نے آخری روز کے پہلے ہی میچ میں مطلوبہ پوائنٹس حاصل کر لیے، تاہم بعد کے مقابلوں میں سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مرحلے پر یو ایل ایف ٹیم بھی مقررہ حد عبور کر چکی تھی اور چیمپیئن شپ کا فیصلہ آخری میچ تک جا پہنچا۔
فیصلہ کن مقابلے سے قبل فور تھرائیوز 113 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست تھی جبکہ یو ایل ایف کے 104 پوائنٹس تھے۔
آخری میچ میں کوئی بھی ٹیم چکن ڈنر حاصل نہ کر سکی، جس کے بعد فور تھرائیوز 122 پوائنٹس کے ساتھ مجموعی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر رہی اور چیمپیئن قرار پائی۔
یہ پب جی موبائل کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کی پہلی بڑی عالمی ٹرافی ہے، جسے پاکستانی گیمنگ کمیونٹی ایک تاریخی سنگِ میل قرار دے رہی ہے۔
فور تھرائیوز کی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پاکستانی صارفین نے اس کامیابی کو ملک کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا۔
 متعدد صارفین نے اس کامیابی کا موازنہ 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ سے بھی کیا۔ 

فیس بک پر صارف فرحان ملک نے لکھا کہ وہ سات برس سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے پاکستانی ٹیموں کو اس وقت بھی سپورٹ کیا جب ای سپورٹس مقابلوں کو بہت کم لوگ دیکھتے تھے۔
 انہوں نے فور تھرائیوز کی کامیابی کو پاکستان کی ای سپورٹس تاریخ کا اہم ترین لمحہ قرار دیا۔
صارف مدثر معاویہ نے مختصر مگر پُراثر انداز میں لکھا، ’سات سال کا انتظار۔‘

مبشر علی نے فائنل مقابلے کو ’سینما‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ آخری میچ نے شائقین کو سنسنی میں مبتلا رکھا۔
ملک یوسف نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا،  اب ’ہم عالمی چیمپیئن ہیں۔‘
ایکس  پب جی موبائل ایسپورٹس کے آفیشل اکاؤنٹ نے فور تھرائیوز کو 2026 پی ایم جی او سیزن 1 کا چیمپیئن قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ٹیم نے اس کامیابی کا حق ادا کر دیا۔

ایکس اور صارف سمیر خان نے لکھا کہ ان کا خواب تھا کہ پاکستان ایک روز پب جی موبائل میں دنیا کی بہترین ٹیم بنے، اور فور تھرائیوز نے یہ خواب حقیقت میں بدل دیا۔ 
انہوں نے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
بہت سے صارفین نے مطالبہ کیا کہ ای سپورٹس کو بھی روایتی کھیلوں کی طرح سرکاری اور نجی سطح پر سرپرستی فراہم کی جائے تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکیں۔
 

شیئر: