Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مائیک ہیسن نہایت دانشمندی سے بابر کو بطور ’انشورنس پالیسی‘ استعمال کر رہے ہیں، مائیکل وان

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان  مائیکل وان نے پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بابر اعظم کے کردار کو پورے ٹورنامنٹ کے دوران نہایت دانشمندی سے سنبھالا۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک بز سے گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان نے کہا کہ وہ اُن غیر ملکی کوچز کی بہت قدر کرتے ہیں جو پاکستان میں کوچنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، کیونکہ یہاں کام کرنا آسان نہیں اور کئی پیچیدہ حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے غیر ملکی ہیڈ کوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ  مائیک ہیسن نے بابر اعظم کے معاملے کو شاندار انداز میں سنبھالا ہے۔ ’واضح طور پر بابر کو ٹیم میں شامل کرنا ضروری ہے اور ہیسن انہیں بیک اپ پلان یا انشورنس پالیسی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔‘ 
’اگر ابتدائی دو وکٹیں جلد گر جائیں تو بابر نمبر چار پر آ کر اننگز کو سنبھال سکتے ہیں اور ٹیم کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف سپر ایٹ مرحلے کے میچ میں بابر اعظم کی کارکردگی تنقید کی زد میں ہے۔ انہوں نے نمبر چار پر بیٹنگ کرتے ہوئے 24 گیندوں پر 25 رنز بنائے، جس میں دو چوکے شامل تھے۔ اس میچ میں ان کا سٹرائیک ریٹ ایونٹ کی تاریخ میں کسی بھی بلے باز کے مقابلے میں کم ترین قرار دیا گیا، جبکہ پورے ٹورنامنٹ میں ان کا مجموعی سٹرائیک ریٹ 111.5 رہا، جو ایک منفی ریکارڈ سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم مائیکل وان کا ماننا ہے کہ سری لنکا کی وکٹیں بابر اعظم کے کھیل کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ ان کے مطابق وہاں عموماً 150 سے 180 کے درمیان سکور بنتا ہے، اور بابر اس حد کے اندر رہتے ہوئے ٹیم کو مستحکم رنز فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا ’بابر سری لنکا کی وکٹوں کے لیے آئیڈیل کھلاڑی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ پاکستان کو 160 سے 170 کے درمیان سکور تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘
تاہم مائیکل وان نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر پچ ایسی ہو جہاں 200 یا 210 رنز درکار ہوں تو بابر اعظم شاید اس رفتار سے سکور نہ کر سکیں۔ ان کے بقول، ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ اب اس نوعیت کے جارح مزاج بیٹر ہیں جو اکیلے ٹیم کو 200 سے زائد سکور تک لے جا سکیں۔‘
 مائیکل وان نے پالیکیلے انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پچ پر وہ بابر اعظم کو ضرور ٹیم میں شامل کریں گے، کیونکہ وہ سپنرز کو اچھا کھیلتے ہیں اور مڈل اوورز میں اننگز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
ان کے مطابق ’اگر بابر کا سٹرائیک ریٹ 125 سے 130 کے درمیان بھی ہو تو یہ قابل قبول ہے، بشرطیکہ دیگر کھلاڑی تیز رفتار مختصر اننگز کھیلیں۔‘
 مائیکل وان نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کبھی پاکستان میں بطور غیر ملکی کوچ کام نہیں کرنا چاہیں گے کیونکہ یہ ایک مشکل ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ان کی جیسن گلیسپی سے بھی متعدد بار گفتگو ہوئی ہے۔
ان کے مطابق ’مائیک ہیسن، ٹیم اور مینجمنٹ نے مجموعی طور پر صورتحال کو انتہائی بہترین انداز میں سنبھالا ہے اور ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔‘
بابر اعظم کی بیٹنگ اور کریئر کے حوالے سے مائیکل کا کہنا تھا کہ ’اگر بابر چاہتے ہیں کہ ان کا ٹیسٹ اور ٹی20 کریر بہتر اور دیرپا رہے تو انہیں ٹی20 کرکٹ چھوڑ دینی چاہیے، ہاں وہ چاہیں تو پی ایس ایل کھیلتے رہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ بابر اعظم ورلڈ کلاس پلیئر ہیں، ٹی20 کے علاوہ فارمیٹس سامنے رکھے جائیں تو میرے ٹاپ فائیو بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ ٹی20 کرکٹ اب بہت بدل چکی ہے۔‘

شیئر: