Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی فوجی طاقت برقرار، امریکہ سے جنگ کب تک جاری رہ سکتی ہے؟

ایران میں زندگی معمول کی جانب لوٹ رہی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
امریکہ اور اسرائیل نے جب 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملہ کیا تو متنازع پیشگوئیاں کرنے والی مشہور ویب سائٹ ’پولی مارکیٹ‘ پر قریباً 59 فیصد جواریوں نے یہ جُوا کھیلا کہ ایرانی حکومت ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے باوجود قائم رہے گی۔
عرب نیوز کے  مطابق صرف دو دن بعد یعنی پیر تک صورتِ حال بدل چکی تھی اور 99 فیصد جواری اب یہ شرط لگا رہے تھے کہ ایرانی حکومت برقرار رہے گی۔ صرف ایک فیصد کا خیال تھا کہ ایرانی حکومت جُون کے اختتام تک گر جائے گی۔
اسرائیلی اور امریکی ہتھیار 28 فروری کو جب ایران پر گِر رہے تھے تو 55 فیصد جواریوں نے یہ شرط لگائی تھی کہ ایرانی حکومت 2027 کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔ لیکن دو دن بعد پیر تک صرف 13 فیصد جواری ہی اس رائے پر قائم رہ سکے۔
حقیقت کچھ یوں ہے کہ جنگ بندی کے دوران آنے والے اُتار چڑھاؤ، میزائلوں کے مسلسل تبادلے، آبنائے ہرمز کی جاری ناکہ بندی، اور امریکہ ایران جنگ کے 100 دن مکمل ہونے کے بعد یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ایرانی حکومت فوری طور پر یا اچانک ختم ہونے نہیں جا رہی۔
سوفان سینٹر کی سینیئر ڈائریکٹر کیرولین روز نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کشیدگی نے بلاشبہ ایرانی معیشت اور سلامتی دونوں پر شدید دباؤ ڈالا ہے، لیکن ہم حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ دبائو ایران یا ایرانی حکومت کے وجود کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے بین الاقوامی پابندیوں، پانی کی قلت، بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور سماجی بے چینی کے باوجود غیر معمولی مزاحمت دکھائی ہے۔‘
ایران کے اندر سے آنے والی رپورٹس میں عوام میں ’مایوسی اور ناامیدی‘ دیکھی جا رہی ہے۔ بہت سے ایرانیوں کو امید تھی کہ فروری کے آخر میں ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملے حکومت کے خاتمے کا آغاز ثابت ہوں گے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، تباہ کن حملوں اور غیریقینی جنگ بندی کے درمیان یہ امیدیں اب دم توڑ چکی ہیں۔

شہری ایران کے دارالحکومت تہران کے ایک بازار میں خریداری کر رہے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

رپورٹ کے مطابق، اب مایوسی اور ناامیدی نے امید کی جگہ لے لی ہے، جس کی وجہ قریباً 1700 عام شہریوں کی ہلاکت، بڑے پیمانے پر تباہی اور معاشی بدحالی ہے جس نے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
20 سے زیادہ ایرانیوں سے کیے گئے انٹرویوز کے مطابق، تہران، اصفہان، اہواز اور مشہد کے شہریوں میں یہ اُلجھن پائی جاتی ہے کہ کبھی جنگ ختم ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں اور کبھی دوبارہ حملے شروع ہو جاتے ہیں، جس نے حکومت کے حامیوں اور مخالفین دونوں کو بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
تاہم کیرولین روز کے مطابق یہ اضطراب حکومت کے لیے کوئی اہم وجودی خطرہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ دباؤ اگرچہ سماجی بے چینی اور عدم اطمینان کو بڑھا رہا ہے اور کبھی کبھار حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں بھی بدل جاتا ہے، لیکن ریاست اب تک قائم ہے کیوں کہ ایرانی سکیورٹی اداروں نے روزمرہ زندگی پر اپنی مکمل گرفت قائم کر رکھی ہے۔‘
سعودی عرب، عراق، شام اور میانمار میں تعینات رہنے والے سابق برطانوی سفیر اور یروشلم میں قونصل جنرل سر جان جینکنز کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانی معیشت ’انتہائی خراب حالت‘ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’کرنسی کا شدید بحران، مہنگائی میں بے پناہ اضافہ، صنعتی پیداوار کو بڑا نقصان، تیل کی برآمدات میں کمی، کنوؤں اور فیلڈز کو نقصان اور انٹرنیٹ کی بندش کے علاوہ پانی کا بحران اور ماحولیاتی تباہی نے ایران کے لیے مشکلات کو غیرمعمولی طور پر بڑھایا ہے۔‘

جنگ بندی، میزائل حملوں اور بحری ناکہ بندی کے باوجود ایرانی حکومت کے فوری ختم ہونے کی کوئی امید نہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ اندرونی اختلافِ رائے کو پہلے سے زیادہ سختی سے کُچلا جا رہا ہے، گرفتاریوں اور سزاؤں میں اضافہ ہوا ہے، اور سڑکوں پر نوجوان بسیجی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن امریکہ چونکہ مزید کشیدگی بڑھانے سے ہچکچا رہا ہے اور امریکی مدد کے بغیر اسرائیل کے پاس محدود آپشنز ہیں، تو اس لیے میرا خیال ہے کہ ایرانی حکومت فی الحال برقرار رہ سکتی ہے۔‘
28 فروری کے بعد اگرچہ ایران کی فوجی صلاحیت اور اس کے اسلحے کے ذخائر کو نقصان ضرور پہنچا ہے، لیکن یہ بات امریکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے بھی حیران کن رہی ہے کہ ایران نے جلد ہی خود کو نہ صرف بحال کیا بلکہ اب بھی بڑی مقدار میں اسلحہ برقرار رکھا ہوا ہے۔
نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو حاصل ہونے والی امریکی انٹیلی جنس اداروں کی دستاویزات کے مطابق، مئی کے وسط تک ایران نے آبنائے ہرمز میں موجود اپنے 33 میں سے 30 میزائل مراکز دوبارہ فعال کر لیے تھے، اور ملک بھر میں اپنے قریباً 70 فیصد موبائل لانچرز برقرار رکھے ہوئے تھے، جبکہ جنگ سے پہلے کے قریباً 70 فیصد میزائل ذخائر بھی محفوظ تھے۔
یہ اعدادوشمار اگر درست ہیں تو یہ دعوے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے مختلف ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
اتوار اور پیر کو ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایک دوسرے پر میزائلوں کا تبادلہ کیا۔ اسرائیل نے اپنے حملے اس وقت روک دیے جب صدر ٹرمپ نے کھل کر مداخلت کی اور ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’اسرائیل اور ایران کو فوراً ’شوٹنگ‘ بند کر دینی چاہیے۔‘

امریکی انٹیلی جنس حلقے اور تجزیہ کار ایران کی فوجی طاقت برقرار رہنے پر حیران ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

لیڈن یونیورسٹی سے منسلک تاریخ اور بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرر اینڈریو گاوتھورپ نے کہا کہ اس وقت میرا فہم یہ ہے کہ ایران امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے، اور میرے خیال میں یہ اس کے رویے سے بالکل واضح ہے۔‘ اینڈریو گاوتھورپ سب سٹیک نیوز لیٹر ’امریکہ ایکسپلینڈ‘کے مصنف بھی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایران اس تنازع میں اکثر خطرہ مول لینے کے لیے تیار رہتا ہے، اور حالات کو دوبارہ شدت دینے سے بھی نہیں گھبراتا، جیسا کہ اس نے حال ہی میں کیا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ٹرمپ ہمیشہ ان چیلنجز کے کا سامنا کرنے سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں، اور میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی داخلی سیاسی پوزیشن بہت مشکل ہے، اور وقت کے ساتھ یہ مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ جیسے جیسے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، معیشت ایک بڑا مسئلہ بننے جا رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایرانی یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ یہ معاملہ اگر طول پکڑتا ہے تو یہ امکان موجود رہے گا کہ وہ ٹرمپ سے اپنی مطلوبہ رعایتیں حاصل کر سکیں، جبکہ ٹرمپ اس کوشش میں ہیں کہ یہ معاملہ ممکنہ طور پر جلد از جلد حل ہو جائے۔‘
چیتھم ہاؤس کے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ پروگرام کی ڈائریکٹر صنم وکیل نے کہا کہ یہ ’بالکل واضح ہے کہ ایران میں نظامِ حکومت بچا ہوا ہے لیکن اس جنگ کا انجام ایران کی قیادت کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف بقا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔‘

امدادی ادارے حالیہ جنگ میں تباہ ہونے والی ایک عمارت کا ملبہ ہٹا رہے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے مزید کہا کہ ’انہیں اس بقا کو ایک ایسے معاہدے میں تبدیل کرنا ہوگا جو معاشی بحالی کی ضمانت بن سکے، اور اسی کے ذریعے وہ اندرونِ ملک سیاسی طور پر اپنی ساکھ اور جواز کو مضبوط بنا سکیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ لازمی طور پر جنگ ختم ہوگی، اور اب اصل سوال یہ ہے کہ اس کے اختتام کی شرائط کیا ہوں گی، جو تین ممکنہ صورتوں میں سے کسی ایک شکل میں ہو سکتی ہیں۔
صنم وکیل نے کہا کہ پہلی صورت یہ ہے کہ ایک مفاہمتی یادداشت طے پائے جو ایران کے علاقائی کردار اور اس کے جوہری پروگرام جیسے دیگر مسائل پر طویل مذاکرات کی بنیاد رکھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری صورت یہ ہے کہ ایسی ہی ایک مفاہمتی یادداشت ہو جو مزید مذاکرات کی بنیاد تو بنے، لیکن وہ مذاکرات کبھی مکمل نہ ہوں، اور ہم غزہ جیسے حالات میں پھنسے رہیں، یعنی صرف عمل جاری رکھنے کے لیے کوئی علامتی نوعیت کا اقدام کر لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’تیسری صورت یہ ہے کہ صورتِ حال جوں کی توں رہے یعنی نہ مکمل جنگ ہو اور نہ ہی مکمل امن قائم ہو اور موجودہ حالات برقرار رہیں۔‘
صنم وکیل نے کہا کہ ’خلیجی ریاستوں کے لیے بہترین نتیجہ پہلی صورت ہے، یعنی ایک مفاہمتی یادداشت جس پر ممکنہ طور پر اگلے ایک ماہ میں اتفاقِ رائے ہو جائے، اور پھر خطہ ایک ایسے فریم ورک کی بنیاد رکھے جو وسیع تر حل کی طرف لے جائے۔‘

کویتی حکام میزائل اور ڈرون حملے کے بعد تباہ ہونے والے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوا، اور علاقائی کشیدگی اور اندرونی تقسیم، ایران اور امریکہ دونوں کو درپیش داخلی مشکلات کے ساتھ مل کر کسی بڑے معاہدے کو روک دے، تو ہم موجودہ کشیدگی میں ہی پھنسے رہیں گے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ’حالیہ کشیدگی کو محدود تو رکھا جا سکتا ہے، لیکن وقتاً فوقتاً اس میں اچانک شدت آئے گی، اور یہ شدت ہمیشہ خطرناک ہوگی اور خطے کے معاشی و سلامتی کے نظام پر اثر ڈالے گی۔‘
سر جان جینکنزکے مطابق اگرچہ ’یہ ایک طویل کھیل ہوگا،‘ لیکن اس وقت ایران کے پاس جو اثر و رسوخ ہے، وہ بالآخر ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران یہ سمجھ سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی حد تک فائدہ دے سکتا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ مفروضہ اگر تسلیم کر بھی لیا جائے، تب بھی یہ باقی تمام مسائل کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ کوئی علاقائی یا عالمی ریاست ایسا کوئی حل قبول کرے گا۔‘
سر جان جینکنز نے مزید کہا کہ ’اس وقت اگرچہ ایران مشکل حالات سے گزر رہا ہے، لیکن اس نے اپنے تمام پڑوسیوں کو ناراض کر لیا ہے اور چین کو بھی خوش نہیں کر رہا۔ اسرائیل ایسا کر کے بچ سکتا ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ایران کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔‘

امدادی کارکن لبنان میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی ایک عمارت سے متاثرین کو نکال رہے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے کہا کہ ’تیل اور گیس کے صارفین مختصر مدت کے لیے متبادل راستے تلاش کریں گے، اور آئندہ پانچ سے بیس برسوں میں خلیجی تعاون کونسل برآمدات کے لیے متبادل ڈھانچہ تیار کر لے گی۔ یوں آبنائے ہرمز کی اہمیت بتدریج کم ہوتی جائے گی، اور اس دوران ایرانی معیشت کو نقصان پہنچتا رہے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹرمپ شاید اس معاملے میں دلچسپی کھو دیں، لیکن ایران کے لیے یہ صورتِ حال لازمی طور پر سودمند نہیں ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کو ٹرمپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔‘

شیئر: