Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الحناطین کے ریت کے ٹیلے: جہاں تحقیق کرنے والے شوق سے آتے ہیں

الحناطین کے ریت کے ٹیلے، جو حال ہی میں مکمل ہونے والی رفحا - حائل شاہراہ کے کنارے اور رفحا گورنریٹ سے تقریباً 160 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں، اِس ریجن کے انتہائی اہم قدرتی اور تاریخی مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ ٹیلے کافی بلند ہیں اور صحرا میں قدرتی طور پر بننے والی دلکش صورتوں میں اپنی مثال نہیں رکھتے۔ اِن کی شہرت کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ریت کے اِن بلند ٹیلوں کا شمالی جزیرۂ عرب کے تجارتی راستوں سے بھی گہرا تعلق ہے۔
سعودی پریس ایجنسی سے بات کرتے ہوئے آثارِ قدیمہ کی ایسوسی ایشن کے رُکن عبدالرحمٰن التویجری نے بتایا کہ الحناطین کے ریت کے ٹیلے، ایک تاریخی تجارتی راستے پر پڑتے ہیں جسے مغربی تجارتی راستہ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ راستہ صحرائے نفوذ کے کناروں سے ہوتا ہوا تربہ سے الحیانیہ تک جاتا تھا اور بعد میں الحزل، المجامیر اور الرحیمی سے گزر کر کوفہ جا پہنچتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اِس راستے پر پانی کے وسائل کی تعداد کافی کم تھی اِسی لیے یہ راستہ دشوار گزار سمجھتا جاتا تھا۔
لیکن چونکہ اِس راستے سے مرکزی شاہراہ تک پہچنے میں کم فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا چنانچہ یہ راستہ محفوظ بھی سمجھا جاتا تھا اور چھوٹے کاروان اور کم تعداد میں سفر کرنے والے مسافر اِس راستے پر پڑنے کو ترجیح دیتے تھے۔

یہ مقام آج قدرتی خوبصورتی سے سجا ہوا ہے جہاں تاریخی ورثہ بھی ملتا ہے اور صحرا کی حسین وسعتوں سے آنکھوں کو متحیّر کرنے والے مناظر بھی۔ اِس کے ساتھ ساتھ یہاں سیاحت کے مواقع بھی دستیاب ہیں جن کی وجہ سے عام لوگ اور صحرائی مشاغل اور تحقیق کی جستجو کے حامل افراد ایسے مقامات پر شوق سے آتے ہیں۔

شیئر: