Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہم نے ابھی اپنی کہانیاں سنانا شروع کی ہیں‘ سعودی فلم پروڈیوسر رشا الامام

رشا الامام کہتی ہیں کہ ’ہر فلم میں مختلف شعبوں میں 30 سے 40 ٹرینیز ہمارے ساتھ ہوتے ہیں‘ (فوٹو: عرب نیوز)
 سعودی پروڈیوسر اور ییلو کیمل سٹوڈیوز کی بانی رشا الامام میں عزم و  حوصلے کی کوئی کمی نہیں۔ انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ میرا نام تاریخ کی کتابوں میں درج ہو۔ میری خواہش ہے کہ ایک دن مجھے سعودی فلمی صنعت کا ’گاڈ فادر‘ کہا جائے۔‘
ان کا یہ خواب اتنا ناممکن نہیں ہے جتنا سننے میں لگتا ہے بلکہ یہ بالکل اس مقام کے مطابق ہے جہاں وہ آج کھڑی ہیں۔ وہ سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی فلم اور سکرین انڈسٹری میں کیمرے کے پیچھے کام کرنے والی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔
اپنی کمپنی شروع کرنے سے پہلے الامام نے ایم بی سی گروپ سمیت مختلف میڈیا اداروں میں کئی برسوں تک کیا اور بعد میں وہ ایم بی سی سٹوڈیوز میں ہیڈ آف پروڈکشنز کے عہدے پر بھی رہیں جس کو وہ پوری انڈسٹری کا ایک انقلابی اور تبدیلی کا دور بھی قرار دیتی ہیں۔
 روپرٹ وائٹ کی سعودی عرب میں فلمائی گئی بین الاقوامی فیچر فلم ’ڈیزرٹ وارئیر‘ کی شریک پروڈیوسر کی حیثیت سے وہ پہلے ہی یہ ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کر چکی ہیں کہ سعودی عرب میں بڑے پیمانے کی فلم کی پروڈکشن کیسی ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول، یہ تجربہ ایک مختصر مگر انتہائی جامع فلمی تربیت سے کم نہیں تھا۔ ’یہ گویا مختصر الفاظ میں پوری فلم سکول کی تعلیم تھی۔‘
یہ پروڈکشن 2020 سے شروع ہو کر ڈیڑھ سال تک جاری رہی، جس کی شوٹنگ بنیادی طور پر نیوم میں کی گئی، جب وہاں کے انفراسٹرکچر کا ابھی آغاز ہو رہا تھا۔ انہوں نے اس بارے میں مسکراتے ہوئے کہا کہ ’پروڈکشن کا ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا جس کا آپ تصور کریں اور وہ ہمارے سامنے نہ آیا ہو۔‘
یہ تجربات صرف فنی یا تکنیکی اعتبار سے ہی سیکھنے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ ثقافتی طور پر بھی بہت اہم ثابت ہوئے ہیں۔ ’ڈیزرٹ واریئر‘ میں ہالی ووڈ کے ساتھ کام کرنے کے بعد، پھر شاہ رخ خان کی قیادت میں بننے والی بالی ووڈ فلم ’ڈنکی‘ (جس میں کام کرنے کا طریقہ بالکل مختلف تھا) اور عرب دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ٹیموں کے ساتھ کام کرنے نے رشا الامام کو یہ سمجھ دی کہ مختلف ممالک کی فلمی صنعتیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ اور انہیں یقین ہے کہ ییلو کیمل سٹوڈیوز ان میں سے کسی بھی صنعت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایم بی سی کے آرام دہ اور بڑے عہدے کو چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن وزارت ثقافت کی جانب سے پروڈکشن میں رعایت اور ’ڈیزرٹ واریئر‘ کی کامیابی کے بعد، ان کے لیے نئے مواقع کی راہیں کھل گئیں۔

ییلو کیمل کی بنیاد بین الاقوامی پروڈکشنز کو خدمات دینے سے ہوئی تھی (فوٹو: رشا الامام انسٹاگرام)

انہوں نے کہا کہ ’جب ’ڈیزرٹ واریئر‘ کا کام ختم ہوا تو مجھے بین الاقوامی پروڈیوسروں کے فون آنے لگے جو سعودی عرب میں شوٹنگ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن میں بار بار یہی کہتی تھی کہ میں مفادات کے تصادم کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتی۔ پھر میرے ایک دوست نے کہا کہ ’اگر تم یہ کام نہیں کرو گی تو اور کون کرے گا؟ تب میں نے یہ فیصلہ کیا اور استعفیٰ دے کر ییلو کیمل کی بنیاد رکھی، تاکہ سعودی عرب آنے والی بین الاقوامی پروڈکشنز کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔‘
اس وقت مملکت میں فلمی ڈھانچہ بالکل ابتدائی مرحلے میں تھا جس کی وجہ سے الامام نے اپنے کندھوں پر بڑی ذمہ داری محسوس کی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’آپ کو زیادہ تر امیج اور ساکھ کی فکر ہوتی ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ وہ واپس جا کر کہیں کہ ہاں سعودی عرب جاؤ۔ وہ یہ کام بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ وہ کام کرنے کی بہترین جگہ ہے، نہ کہ یہ کہیں کہ وہاں مت جانا، انہیں معلوم ہی نہیں کہ کام کیسے ہوتا ہے۔‘
اب ییلو کیمل جو سعودی خاتون کی زیرقیادت ایک پروڈکشن کمپنی ہے، مملکت میں شوٹ ہونے والے سب سے بڑے بین الاقوامی اور علاقائی منصوبوں کی شراکت دار بن چکی ہے۔
الامام نے مزید کہا کہ ’ہم نے شاہ رخ خان کے ساتھ ’ڈنکی‘، گائے رچی کے ساتھ ’ان دی گرے‘ اور اینڈرسن پاک کے ساتھ ’کے پاپس‘ سمیت کئی فلمیں، اشتہارات اور ٹی وی سیریز بنائیں۔

رشا الامام کہتی ہیں کہ ’سعودی عرب کا منظر نامہ زبردست ہے‘ (فوٹو: رشا الامام انسٹاگرام)

انہوں نے ابوبکر شوقی کی مشہور سعودی فلم ’ہجان‘ کی بھی شریک پروڈکشن کی۔
اب ییلو کیمل اپنی فلمیں بنانے کا آغاز کر رہا ہے اور ان کی پہلی مکمل سعودی فلم ’نوبیل ڈیپارچر‘ کی شوٹنگ رواں سال شروع ہونے والی ہے۔
ییلو کیمل کی بنیاد بین الاقوامی پروڈکشنز کو خدمات دینے سے ہوئی تھی لیکن الامام کا مقصد غیر ملکیوں کو قائل کرنا نہیں بلکہ یہ دکھانا ہے کہ سعودی عرب میں پہلے سے کیا کچھ موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب کا منظر نامہ زبردست ہے۔ یہاں موجود تنوع دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ ہم صرف یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہاں کیا دستیاب ہے۔ یہاں دی جانے والی مراعات اور رعایتیں دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔‘
وہ سمجھتی ہیں کہ سعودی عرب کی تخلیقی صنعت کا نیا ہونا کہانی نویسوں کے لیے ایک فائدہ ہے کیونکہ انہیں پرانی چیزوں کو دوبارہ بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

الامام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں کہ سعودی ٹیلنٹ کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے (فوٹو: رشا الامام انسٹاگرام)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چونکہ ہم نے ابھی آغاز کیا ہے، ہم نے ابھی اپنی کہانیاں نہیں سنائیں، جب پوری دنیا اپنی کہانیاں سنا چکی ہوگی تب ہم اپنی کہانیاں سنانا شروع کر رہے ہوں گے۔‘
اگر کوئی بڑا چیلنج اب بھی باقی ہے تو رشا الامام کے مطابق وہ بنیادی ڈھانچہ یا حکومتی تعاون نہیں ہے۔۔۔ کیونکہ وہ دونوں کو مضبوط قرار دیتی ہیں۔۔۔ بلکہ اصل مسئلہ باصلاحیت افراد کی کمی ہے، خاص طور پر کہانی لکھنے اور سکرپٹ رائٹنگ کے شعبے میں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بڑا چیلنج اس مارکیٹ کے لیے کافی تعداد میں سعودی لکھاریوں کا ہونا ہے۔ ہمارے پاس کچھ اچھے لکھاری ہیں لیکن وہ بہت مصروف ہیں کیونکہ ان کی طلب ہے۔ اگر زیادہ لکھاری ہوں گے تو زیادہ کہانیوں کے سکرپٹ بنیں گے اور لکھنے کے مختلف انداز سامنے آئیں گے۔‘
الامام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں کہ سعودی ٹیلنٹ کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے۔ اور یہی سے ان کے ’گاڈ فادر‘ بننے کا عزم زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔
الامام نے مزید کہا کہ ’ہم پورا سال ورکشاپس کرواتے ہیں اور سیٹ پر تربیت دیتے ہیں۔ ہر فلم میں مختلف شعبوں میں 30 سے 40 ٹرینیز ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔ ہم مارکیٹ کو تیزی سے آگے بڑھانے اور مقامی وسائل کو بڑی پروڈکشنز کے لیے تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
کیمرے کے پیچھے کیریئر بنانے کے خواہش مند نوجوان سعودیوں کے لیے ان کا مشورہ بالکل واضح اور سیدھا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’نچلی سطح سے آغاز کریں۔ ہر کوئی دلکش ٹائٹل چاہتا ہے، آپ کو ٹائٹل مل سکتا ہے لیکن اس کے لیے محنت کرنی پڑے گی۔ کبھی کبھار میں نوجوان سعودی شہریوں کا انٹرویو کرتی ہوں جو کہتے ہیں کہ میں پروڈیوسر ہوں، ہدایت کار ہوں اور لکھاری ہوں۔ میرے دوست، کسی ایک پیشے کا انتخاب کرو۔ کسی ایسی چیز کو منتخب کرو جس سے آپ کو محبت ہو اور اس کے لیے دن رات ایک کر دو۔ آپ کو اس کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔‘

 

شیئر: