بحیرہ احمر میں حملے کی مذمت، پاکستان سعودی عرب کی مکمل حمایت کرتا ہے: ترجمان دفتر خارجہ
جمعرات 23 جولائی 2026 10:42
ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی مکمل حمایت کرتا ہے اور حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں کمرشل جہاز رانی کو دھمکیوں کی مذمت کرتا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ’پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کا اعادہ کرتا ہے۔ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا۔ سعودی عرب پر حملے خطے کی صورتحال کو مزید خراب کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔‘
ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔‘
’اقوامِ متحدہ عالمی قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی وزیر داخلہ نے اسی مناسبت سے پاکستان کا دورہ کیا ہے جس کے دوران سکندر مومنی نے وزیر اعظم فیلڈ مارشل وزیر داخلہ سے ملاقاتیں کیں، جبکہ پاکستان نے فریقن سے کشیدگی ختم کرنے کی اپیل کی۔
18 جولائی کو علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاک کویت وزرائے خارجہ کی گفتگو ہوئی، گذشتہ روز منیلا میں آسیان اجلاس کی سائیڈ لائنز پر پاک مصر وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی۔ پاک مصر وزرائے خارجہ نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا۔
