مستوگ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ان کا سرکاری محافظ ہلاک
جمعرات 23 جولائی 2026 10:50
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ ریاست پر حملہ قرار دیا ہے (فوٹو: اے پی پی)
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ان کے سرکاری محافظ ہلاک جبکہ ایڈیشنل سیشن جج زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح کوئٹہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے سنگر میں ولی خان ریلوے پھاٹک کے قریب پیش آیا۔
مستونگ کے ایس پی اللہ بخش نے ٹیلی فون پر اردو نیوز کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ، ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سرکاری محافظ کے ہمراہ گاڑی میں کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری محافظ محمد زمان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ لاشوں اور زخمی جج کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر سکیورٹی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
اب تک کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ مستونگ اور اس کے گردونواح میں کالعدم بلوچ اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔
مستونگ حالیہ دنوں میں بدامنی کے کئی واقعات کا مرکز رہا ہے۔ ایک روز قبل مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ کوچہ کے علاقے میں مسافر بس پر فائرنگ سے تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے اسی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔
ان واقعات کے بعد کھڈکوچہ میں کرفیو نافذ ہے۔ سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ مستونگ اور سوراب میں گزشتہ دو روز کے دوران کارروائیوں میں دس شدت پسند ہلاک اور دو مبینہ خودکش خواتین حملہ آور گرفتار کی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچایا جائے گا اور قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا۔ دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جائے گا، شہدا کے خون کا حساب لیا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔‘
وزیراعلیٰ بلوچستان کے میڈیا معاون شاہد رند نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ججز اور قانون کے محافظوں کو نشانہ بنانا ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور انصاف کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث افراد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔