انڈیا سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ ماڈل ریحیا آہیر نے بدھ کے روز شیواجی پارک میں ہونے والے احتجاج کی نمایاں ترین شخصیات میں شامل ہونے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ریحیا آہیر دادر کے کوہِ نور سکوائر سے شیواجی پارک کی جانب جا رہی تھیں کہ ان کی نظر ایک پولیس وین پر پڑی جس میں احتجاج کرنے والوں کو بھر کر لے جایا جا رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بے حد مضطرب ہو گئیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے بتایا، ’وین اگلے حصے سے لے کر پچھلے حصے تک لوگوں سے بھری ہوئی تھی، وہاں کھڑے ہونے تک کی جگہ نہیں تھی۔‘
آہیر کو یقین تھا کہ پولیس مظاہرین کو بلاوجہ حراست میں لے جا رہی ہے، چنانچہ وہ فوراً وین کی طرف دوڑیں اور اس کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔
انہوں نے کہا، ’میں خود کو روک نہیں سکی۔ ان کے نعروں نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ میں نے سوچا، اگر مجھے احتجاج کرنا ہے تو اس کی شروعات یہیں سے ہوگی۔ انہیں لے جایا جا رہا تھا اور میں یہ ہونے نہیں دے سکتی تھی۔‘
اس کے بعد ان کی پولیس اہلکاروں سے تلخ گفتگو ہوئی۔
آہیر کے مطابق، ’انہوں (پولیس) نے کچھ نہیں کہا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ غلط ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے کہا کہ وین کچھ دور جانے کے بعد زیرِ حراست افراد کو چھوڑ دیا جائے گا، مگر انہوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے اصرار کیا کہ اگر ویسے بھی انہیں چھوڑنا ہے تو ابھی کیوں نہیں چھوڑتے؟
Meet Rhiya Ahir [IG: rhiyaahir]
One fearless young woman stood in front of a police van during the Mumbai student protests, refusing to back down.
Courage can't be bought. Justice can't be silenced. Salute to her. pic.twitter.com/c9oAvhQPeq
— زماں (@Delhiite_) July 22, 2026











