Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’وہ کانپ رہی تھی مگر ڈٹی رہی‘، دہلی پولیس وین کا راستہ روکنے والی لڑکی کون ہے؟

آہیر کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک وین کے سامنے کھڑی رہیں جب تک پولیس نے مظاہرین کو رہا نہیں کر دیا۔ (فوٹو: آشیش ویشنو)
انڈیا سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ ماڈل ریحیا آہیر نے بدھ کے روز شیواجی پارک میں ہونے والے احتجاج کی نمایاں ترین شخصیات میں شامل ہونے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ریحیا آہیر دادر کے کوہِ نور سکوائر سے شیواجی پارک کی جانب جا رہی تھیں کہ ان کی نظر ایک پولیس وین پر پڑی جس میں احتجاج کرنے والوں کو بھر کر لے جایا جا رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بے حد مضطرب ہو گئیں۔
انہوں نے بتایا، ’وین اگلے حصے سے لے کر پچھلے حصے تک لوگوں سے بھری ہوئی تھی، وہاں کھڑے ہونے تک کی جگہ نہیں تھی۔‘
آہیر کو یقین تھا کہ پولیس مظاہرین کو بلاوجہ حراست میں لے جا رہی ہے، چنانچہ وہ فوراً وین کی طرف دوڑیں اور اس کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔
انہوں نے کہا، ’میں خود کو روک نہیں سکی۔ ان کے نعروں نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ میں نے سوچا، اگر مجھے احتجاج کرنا ہے تو اس کی شروعات یہیں سے ہوگی۔ انہیں لے جایا جا رہا تھا اور میں یہ ہونے نہیں دے سکتی تھی۔‘
اس کے بعد ان کی پولیس اہلکاروں سے تلخ گفتگو ہوئی۔
آہیر کے مطابق، ’انہوں (پولیس) نے کچھ نہیں کہا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ غلط ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے کہا کہ وین کچھ دور جانے کے بعد زیرِ حراست افراد کو چھوڑ دیا جائے گا، مگر انہوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے اصرار کیا  کہ اگر ویسے بھی انہیں چھوڑنا ہے تو ابھی کیوں نہیں چھوڑتے؟
بظاہر پُرسکون نظر آنے والی آہیر نے اعتراف کیا کہ اندر سے وہ شدید خوفزدہ تھیں۔
انہوں نے کہا، ’جب میں نے ان کا سامنا کیا تو اندر سے کانپ رہی تھی، لیکن مجھے یقین تھا کہ جو میں کر رہی ہوں وہ درست ہے۔‘
آہیر کے مطابق وہ مسلسل پولیس وین کے سامنے کھڑی رہیں۔ ابتدا میں اہلکاروں نے گاڑی آگے بڑھانے کی کوشش بھی کی۔
انہوں نے بتایا، ’پولیس نے تھوڑا سا ایکسیلیٹر دبایا، لیکن میں اپنی جگہ سے نہیں ہٹی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک وین کے سامنے کھڑی رہیں جب تک پولیس نے مظاہرین کو رہا نہیں کر دیا۔ رہائی کے بعد متعدد مظاہرین ان کے پاس آئے، ان سے ہاتھ ملایا اور شکریہ ادا کیا۔
وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، ’کچھ لوگوں نے مذاق میں مجھے 'بیڈی' بھی کہا، کیونکہ میں نے جس انداز میں پولیس کا سامنا کیا تھا، وہ انہیں پسند آیا۔‘
یہ واقعہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور ریحیا آہیر ایک معروف چہرہ بن گئیں۔
تاہم آہیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس واقعے کا مرکزِ نگاہ بن جائیں گی۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف وہی کیا جو اس لمحے انہیں درست محسوس ہوا۔
انہوں نے کہا، ’مجھے معلوم تھا کہ اگر انہیں لے جایا گیا تو انہیں حراست میں رکھا جائے گا اور ان کے خلاف ایف آئی آرز درج ہوں گی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے آگے بڑھنا تھا۔ میں خود کو روک ہی نہیں سکتی تھی۔ مجھے لگا کہ اگر میں ایک شہری اور ایک انسان ہونے کے باوجود کچھ نہ کرتی تو میں اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہتی، اور وہاں موجود ہونے کا پورا مقصد ہی بے معنی ہو جاتا۔‘

شیئر: