سٹیٹ ڈیپارٹمںٹ کے عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم دونوں حکومتوں کے درمیان نیک نیتی سے براہ راست بات چیت کی سہولت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔‘
رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل جن کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں، کے سفیر 14 اپریل کو بھی سٹیٹ ڈیپارٹمںٹ میں مل چکے ہیں جبکہ اس کے تین روز بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس نے ایران پر حملے کے بعد اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے۔
لیکن جنگ بندی کے اعلان کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم کے لیے فوجی و سفارتی سطح پر دباؤ استعمال کیا جا رہا ہے۔
کاٹز نے ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی یاد میں منائی جانے والی تقریب کے دوران کہا کہ ’اس مہم کا سب سے بڑا مقصد لبنان میں حزب اللہ کو غیرمسلح کرنا اور فوجی و سفارتی اقدامات سے اسرائیل کے شمالی علاقوں میں رہنے والوں کو درپیش خطرے سے دور کرنا ہے۔‘
اگرچہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا عمل جمعے کے روز ہوا لیکن اسرائیل کی فوج اب بھی وہاں موجود ہے اور جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے کارکنوں کے خلاف سرگرم ہے۔
کاٹز نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ اگر کسی قسم کا خطرہ محسوس ہوا تو فوج ’مکمل طور پر طاقت‘ کا استعمال کرے گی۔
لبنان کے صدر جوزگ اون نے پیر کے روز کہا تھا کہ مذاکرات کا مقصد لڑائی کو روکنا، جنوبی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو ختم کرانا اور فوج کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جنوبی سرحدوں تک تعینات کرنا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں ایران کی جانب سے لبنان کو بھی اس میں شامل کرنے کی شرط رکھی گئی تھی جو کچھ روز بعد ممکن ہوا، جبکہ دوسری جانب دونوں ممالک جنگ بندی میں توسیع اور دیرپا امن کے حوالے سے دوبارہ بات چیت شروع کرنے کی تیاری کرتے نظر آتے ہیں۔