Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوہنی دھرتی ریمیٹنس سکیم، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اس منصوبے میں نیا کیا ہے؟

حکام کے مطابق یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا منفرد موبائل ایپلی کیشن پر مبنی نظام ہے (فائل فوٹو: ایس بی پی)
پاکستان کی معیشت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (ریمیٹنس) کو ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ہر سال دنیا کے مختلف ممالک میں رات دن محنت کرنے والے لاکھوں پاکستانی اپنے خاندانوں کی کفالت اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں جب پاکستان کو زرمبادلہ کے گھٹتے ہوئے ذخائر، بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور ادائیگیوں کے توازن جیسے سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا رہا تو انہی ترسیلاتِ زر نے ملکی معیشت کو گرنے سے بچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ ایسے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ’سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام‘ کو ایک نئے اور بہتر انداز میں متعارف کرایا گیا ہے۔
اس سکیم کا بنیادی مقصد بیرون ملک پاکستانیوں کو نہ صرف ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرنا ہے بلکہ انہیں عملی اور مالی فوائد بھی فراہم کرنا ہے۔

سوہنی دھرتی پروجیکٹ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

اس پروگرام کو بنیادی طور پر ایک ’پوائنٹس پر مبنی لائلٹی سکیم‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ خاص طور پر ان اوورسیز پاکستانیوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو بینکوں یا منظور شدہ ایکسچینج کمپنیوں کے جیسے قانونی ذرائع سے اپنے اہل خانہ کو رقم بھیجتے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا منفرد موبائل ایپلی کیشن پر مبنی نظام ہے جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔ یہ ایپ ہر ترسیلِ زر کو خودکار طریقے سے ریکارڈ کرتی ہے اور صارف کو انعامی پوائنٹس فراہم کرتی ہے۔
ماضی میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اکثر یہ شکایت کرتے نظر آئے ہیں کہ ملکی معیشت میں اتنے بڑے کردار کے باوجود انہیں ریاست کی طرف سے کوئی براہ راست مراعات یا سہولیات حاصل نہیں ہوتیں۔
اگرچہ مختلف ادوار میں حکومتوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے متعدد اعلانات کیے، تاہم ان میں سے زیادہ تر منصوبے یا تو بیوروکریسی کی نذر ہو گئے یا مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
 سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کو ان پرانی کوششوں کے تسلسل میں ایک ایسے عملی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ترسیلاتِ زر کو براہ راست ایک ڈیجیٹل انعامی نظام سے جوڑتا ہے۔

گرین سے ڈائمنڈ تک، درجات کا تعین کیسے ہوتا ہے؟

اس سکیم کے تحت جب کوئی بیرون ملک مقیم پاکستانی قانونی چینلز سے رقم بھیجتا ہے تو اسے بھیجی گئی رقم کے تناسب سے پوائنٹس ملتے ہیں۔
یہ پوائنٹس موبائل ایپ میں موجود ایک ورچوئل کارڈ پر ظاہر ہوتے ہیں۔
نظام کو شفاف رکھنے کے لیے پروگرام میں چار مختلف درجات یا کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں۔
گرین کیٹیگری: اگر کوئی فرد ایک مالی سال میں 10,000 امریکی ڈالر تک رقم بھیجتا ہے، تو اسے 1 فیصد کے حساب سے پوائنٹس ملیں گے۔

پاکستان کی معیشت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کو ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

گولڈ کیٹیگری: 10,001 ڈالر سے 30,000 ڈالر تک ترسیلات بھیجنے والوں کو اس درجے میں شامل کیا جائے گا جہاں پوائنٹس کی شرح 1.25 فیصد ہوگی۔
پلاٹینم کیٹیگری: 30,001 سے 50,000 ڈالر تک رقم بھیجنے والے اس درجے میں آئیں گے۔
ڈائمنڈ کیٹیگری: 50,000 ڈالر سے زائد ترسیلات بھیجنے والوں کو اس اعلیٰ ترین درجے میں رکھا جائے گا جہاں سب سے زیادہ یعنی 1.75 فیصد پوائنٹس دیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ صارف کا درجہ مستقل نہیں رہتا۔ اگر کوئی سال کے آغاز میں گرین کیٹیگری میں ہو لیکن بعد میں زیادہ رقم بھیج دے، تو وہ خودکار طریقے سے اگلے درجے میں منتقل ہو جاتا ہے، جس سے غیر رسمی ذرائع (حوالہ اور ہنڈی) کے بجائے بینکاری نظام کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

انعامی پوائنٹس کو کہاں اور کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

صارفین گوگل پلے سٹور یا ایپل ایپ سٹور سے یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نمبر کے ذریعے رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی اپنے جمع شدہ پوائنٹس پاکستان میں موجود اپنے خاندان کے کسی بھی فرد یا نامزد کردہ شخص کو منتقل کر سکتے ہیں۔
یہ پوائنٹس درج ذیل سرکاری خدمات اور اخراجات کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
پی آئی اے : بین الاقوامی ہوائی ٹکٹوں اور اضافی سامان کے چارجز۔
ایف بی آر : موبائل فونز اور گاڑیوں کی امپورٹ پر عائد ڈیوٹی۔
نادرا: شناختی کارڈ اور نائیکوپ کی تجدید فیس۔
پاسپورٹ آفس: پاسپورٹ کی تجدید یا فیس کی ادائیگی۔
دیگر سہولیات: سٹیٹ لائف انشورنس پریمیم، او پی ایف سکولوں کی فیس اور یوٹیلیٹی اسٹورز سے خریداری۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ کے چیئرمین ابراہیم امین کہتے ہیں کہ اگر یہ پروگرام مؤثر طریقے سے نافذ ہوتا ہے تو اس کے دوہرے فوائد ہوں گے۔ ایک طرف اوورسیز پاکستانیوں کو حقیقی مراعات ملیں گی، تو دوسری طرف حکومت کو حوالہ ہنڈی کے متوازی نظام کو شکست دینے میں مدد ملے گی۔
تاہم بعض معاشی مبصرین کا خیال ہے کہ اس سکیم کی کامیابی کا اصل انحصار ان پوائنٹس کے استعمال کے عملی اور آسان طریقہ کار پر ہے۔
اگر صارفین کو سرکاری دفاتر میں ان پوائنٹس کو کیش کرانے یا استعمال کرنے میں روایتی بیوروکریٹک پیچیدگیوں یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، تو اس پروگرام کی کشش ختم ہو جائے گی۔
سعودی عرب کے شہر دمام میں مقیم عرفان بھٹی کے مطابق ’یہ اقدامات خوش آئند ہیں، لیکن اوورسیز پاکستانیوں کو جائیداد کے تحفظ، سرمایہ کاری کی حفاظت اور سرکاری اداروں میں فوری قانونی معاونت کی بھی ضرورت ہے۔‘

شیئر: