ایران اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ایک دوسرے پر حملے روک دیے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ حملے دو ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں سب سے سنگین اضافہ تھی اور اس نے مشرقِ وسطیٰ کو دوبارہ جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے ایران پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں پر حملے جاری رکھے تو اسرائیل بیروت کے جنوبی علاقوں پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
دوسری جانب ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل پر حملوں کی پہلی لہر ختم ہو گئی ہے، تاہم اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو وہ دوبارہ کارروائی کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ’اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر فائرنگ بند کر دینی چاہیے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی کے لیے تیار ہیں اور ’امن‘ کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ’دونوں فریق، اسرائیل اور ایران، فوری جنگ بندی چاہتے ہیں۔ امن کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں، جب تک حماقت یا غلطی رکاوٹ نہ بنے۔ بلاک مکمل طور پر برقرار رہے گا جب تک حتمی معاہدہ نہ ہو جائے۔ معاملات تیزی سے آگے بڑھنے چاہئیں۔‘
ایک اسرائیلی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت بھی ہوئی۔
یہ کال اس سے پہلے ہوئی جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ ایران اسرائیل پر حملے روکنے کے بعد بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو بازو ہیں؛ ہم نہ میدانِ جنگ چھوڑیں گے اور نہ مذاکرات کی میز۔ ہم کسی بھی دھمکی کے سامنے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘