Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اسرائیل کشیدگی: حملوں کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک کا کارروائیاں روکنے کا فیصلہ

اسرائیلی حملے اس وقت کیے گئے جب صدر ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت کو اشارہ دیا تھا کہ انہیں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں۔
ایران اور اسرائیل نے پیر کو کہا کہ ان کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔ ان حملوں میں بعد مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ’اس محاذ پر آگ پر قابو پا لیا گیا ہے‘۔
اس کے چند گھنٹے بعد جب تہران نے کہا کہ اس نے اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائی روک دی ہے۔
تہران نے اتوار کو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ پر اسرائیل پر میزائل داغے جس نے اسرائیل کو جوابی حملہ کرنے پر مجبور کیا، باوجود اس کے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کو ایسا کرنے سے باز رکھنے کی کوششیں کی گئیں۔
کشیدگی میں نیا موڑ اور جنگ بندی کی کوششیں
اس سے قبل کہ تہران کی جانب سے فائر بندی کا اعلان کیا جاتا، ایرانی میزائلوں کا ایک اور سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
ایران کئی ہفتوں سے مشرق وسطیٰ میں 8 اپریل سے نافذ العمل وسیع تر جنگ بندی کو لبنان کے خلاف اسرائیل کی جنگ سے جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ لبنان پر حملے اسے کارروائی کرنے پر مجبور کر دیں گے۔
پیر کو ایران نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے تو وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے بھی جوابی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ’ہم پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی غلطی کی تو ہم پوری طاقت سے جواب دیں گے۔‘
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اصرار کیا کہ لبنان میں مہم ہر صورت جاری رہے گی اور انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند گروپ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر ہونے والے ہر حملے کے جواب میں اسرائیل بیروت کے حزب اللہ کے زیر اثر جنوبی مضافاتی علاقوں کو نشانہ بنائے گا۔

ایران کے حملے کے بعد تل ابیب سمیت وسطی اسرائیل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ (فوٹو: روئٹرز)

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (جو نیتن یاہو سے تیزی سے بیزار ہو رہے ہیں) نے اس سے قبل فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ ’فائرنگ‘ بند کریں اور کہا کہ امن کی جانب ’آخری مذاکرات‘ آگے بڑھیں گے بشرطیکہ ’جہالت یا حماقت اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔‘
تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو بتا دیا ہے کہ ’اسرائیل کو دفاع کا پورا حق حاصل ہے، اور ہم ضرورت کے مطابق اس کا استعمال کر رہے ہیں۔‘
اس دوران دونوں اطراف سے ایسے اشارے ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔
اسرائیل کی وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ میزائل خطرے کے باعث بند کیے گئے سکول منگل سے دوبارہ کھول دیے جائیں گے جبکہ ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے ملک کی فضائی حدود کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
’پہلے سے کہیں زیادہ شدید ردعمل‘
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے رات بھر میں اسرائیل پر قریباً 30 میزائل داغے جس کے جواب میں اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ میں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔
فائرنگ کے اس تبادلے کے بعد ابھی تک اسرائیل یا ایران میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اپنے حملوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی فوجی کمان نے کہا ’اگر دشمنی کی کارروائیاں جاری رہیں، بشمول جنوبی لبنان میں، تو پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور کچل دینے والے اقدامات کیے جائیں گے۔‘
لیکن وزیر دفاع کاٹز نے کہا کہ اسرائیل کی مسلح افواج ’دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے خلاف لبنان میں کارروائیاں جاری رکھیں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم ایران کی دھمکیوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ لبنان اور ایران کو جوڑنے اور اسرائیل پر حملہ کرنے کی کسی بھی ایرانی کوشش کا جواب زبردست طاقت سے دیا جائے گا، جیسا کہ کل ہوا تھا۔‘

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ تہران اب بھی ’مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو ایک نئے حملے میں اسرائیلی حملے نے جنوبی لبنان کے شہر ٹائر میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔
ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شہر میں ان کے مرکز کے قریب ہوا جس سے چار امدادی کارکن زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے لبنان سے داغے گئے تین پروجیکٹائلز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا جبکہ سرحد کے قریب موجود اے ایف پی کے ایک صحافی نے فضا میں تین دھماکے دیکھے۔
پیر کو تہران میں جنگ کی طرف واپسی کے آثار بہت کم نظر آئے اور کیفے کے چبوترے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے۔ عام دنوں کے مقابلے میں ٹریفک کچھ کم دکھائی دی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ گھروں پر ہی رہے، جبکہ پٹرول پمپوں پر لوگوں کی لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں۔
جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خلیج کے تیل اور گیس کی سپلائی آبنائے ہرمز کے ذریعے تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے اس تعطل کے جلد خاتمے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کی صبح تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انتباہ دیا کہ سفارت کاری جاری ہے لیکن یہ لڑائی سے متاثر ہو سکتی ہے۔
اے ایف پی کے رپورٹر کے مطابق جب وہ وزارتِ خارجہ میں گفتگو کر رہے تھے تو ایک زور دار دھماکے نے عمارت کو ہلا دیا، جس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے جن کے بارے میں مانا جا رہا ہے کہ وہ فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ تھی۔
تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ تہران اب بھی ’مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔‘

 

شیئر: