کوئٹہ: بیوی، چار بچوں کو قتل کر کے سرکاری ملازم کی خودکشی کی کوشش
کوئٹہ: بیوی، چار بچوں کو قتل کر کے سرکاری ملازم کی خودکشی کی کوشش
پیر 8 جون 2026 17:00
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
شاہد رند کا کہنا تھا کہ حکومت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ (فوٹو: فیس بک)
کوئٹہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری ملازم نے بیوی اور چار بچوں کو قتل کردیا اور اس کے بعد خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی تاہم انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں ایک سرکاری ملازم نے اپنی اہلیہ اور چار کمسن بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کی شناخت محمد آصف ولد موسیٰ خان گورگیج کے نام سے ہوئی ہے جو سول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں ملازم ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ محمد آصف کی اہلیہ زینب اور ان کے چار بچے واقعے میں جان سے گئے۔ بچوں میں 13 سالہ حذیفہ، بارہ سالہ حورین، چھ سالہ علینہ اور ڈیڑھ سالہ مہرنا شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق محمد آصف وحدت کالونی میں واقع سرکاری گھر میں مقیم تھے۔ واقعے کے بعد جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
واقعہ سے قبل ویڈیو پیغام
پولیس اور اہل خانہ کے مطابق محمد آصف نے واقعے سے قبل 13 منٹ طویل ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی جسے انہوں نے اپنے بعض رشتہ داروں، سوشل میڈیا کارکنوں اور دیگر افراد کو بھیجا۔
ویڈیو میں محمد آصف نے دو سرکاری ملازمین کے نام لے کر الزام عائد کیا کہ وہ ان پر سرکاری گھر خالی کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے پیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پانی کے کنکشن منقطع کیے گئے جبکہ بجلی کا کنکشن کاٹنے کی بھی کوشش کی گئی۔
محمد آصف نے ویڈیو میں یہ الزام بھی لگایا کہ مذکورہ افراد ان کے بچوں کا حوالہ دے کر انہیں دھمکا رہے ہیں۔ انہوں نے صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے مدد کی اپیل بھی کی۔
محمد آصف نے ویڈیو میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو بہت پیار سے پالا ہے وہ انہیں کسی کی جانب سے نقصان پہنچانے سے پہلے ہی خود ہی مار کر خودکشی کرلیں گے۔
محمد آصف کے بھتیجے حاتم خان نے بتایا کہ ان کے چچا نے دوپہر کے وقت واٹس ایپ پر ویڈیو اور وائس پیغامات بھیجے اور فون پر کہا کہ ’سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور وہ خود کو بھی مار رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق انہوں نے محمد آصف کو ایسا کوئی قدم نہ اٹھانے کا کہا اور بتایا کہ وہ ان کے پاس گھر پہنچ رہے ہیں۔ حاتم خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ محمد آصف کے گھر گئے لیکن دروازہ نہیں کھولا گیا۔ اس کے بعد والد بازار چلے گئے۔
ان کے مطابق کچھ دیر بعد محمد آصف نے انہیں دو بچیوں کی تصاویر بھیجیں جنہیں وہ مار چکے تھے جس پر انہوں نے فوری طور پر اپنے رشتہ داروں کی اطلاع دی۔ ’اس کے بعد بھی ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ پھر گھر کے اندر سے گولی چلنے کی آواز آئی۔‘
اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد پولیس دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی اور لاشوں کو تحویل میں لیا۔
حاتم خان کے مطابق محمد آصف گزشتہ کچھ عرصے سے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں انہوں نے کچھ افراد کے نام لیے لیکن واضح نہیں کیا کہ انہیں کیا مسئلہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ویڈیو میں چچا نے جن افراد کے نام لیے پولیس نے انہیں بھی تحقیقات میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وحدت کالونی میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ (فوٹو: اے پی پی)
سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بایزید خروٹی نے بتایا کہ محمد آصف نے دو روز قبل ان سے رابطہ کیا تھا اور واقعے سے پہلے مذکورہ ویڈیو بھیجی۔
بایزید خروٹی کے مطابق انہوں نے ویڈیو متعلقہ حکام تک پہنچانے کی کوشش کی تاکہ محمد آصف کی شکایات کا ازالہ ہو سکے تاہم ان کے بقول اس سے پہلے ہی یہ سانحہ پیش آ گیا۔
ہمسائیہ لکھمیر خان نے بتایا کہ محمد آصف کا ہمسایوں اور لوگوں سے ملنا جلنا کم تھا وہ نفسیاتی مسائل کا شکار نظر آتے تھے۔ ’اس سے پہلے انہوں نے اپنی اہلیہ پر تشدد کیا تھا جس پر پولیس نے ان کے خلاف کارروائی بھی کی تھی۔‘
تاہم پولیس نے اب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وحدت کالونی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق آصف علی کی جانب سے خودکشی سے قبل ریکارڈ کی گئی ویڈیو کے تناظر میں دو مشتبہ سرکاری ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ تحقیقات کا دائرہ کار بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ تمام حقائق سامنے لا کر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی فرد یا اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ حکومت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی شخص کا کردار ثابت ہوا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔