Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کی ’سخت کارروائی‘ کی دھمکی کے بعد ایران پر فضائی حملے

امریکی فوج کی جانب سے جمعرات کو بتایا گیا ہے کہ ایران میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
ان حملوں سے تھوڑی دیر قبل ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر امن معاہدے تک نہیں پہنچا گیا تو اسے انتہائی سختی سے نشانہ بنایا جائے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جمعرات کو صبح بتایا گیا کہ فوج نے مختلف اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں اور ان کو ’دفاعی حملے‘ قرار دیا ہے۔
بیان کے مطابق ’امریکی فوج نے آج ایران میں متعدد مقامات پر دفاعی حملے شروع کیے جو ایران کی غیرضروری اور مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے۔‘
 اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم ان پر حملہ کرنے جا رہے ہیں، ان پر بہت سخت حملہ کیا جائے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدھ کو ایران کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ان کے مطابق ’امریکہ اب بھی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’ہم ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو بامعنی ہو اور کارآمد ہو، ایران پہلے ہی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر رضامند ہو چکا ہے لیکن ابھی معاہدے پر دستخط ہونا ضروری ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایران کو ’سختی سے نشانہ بنانے‘ کی دھمکی دی تھی (فوٹو: اے پی)

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے خفیہ آپریشن کے ذریعے ایران سے ’لاکھوں بیرل تیل‘ نکالا، جس کی بدولت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کو روکنے میں مدد ملی۔
امریکہ کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کو کہا تھا ایران کے لیے یہ امر ’غیر دانشمندانہ‘ ہو گا کہ وہ امریکی ہیلی کاپٹر گرانے پر کیے حملوں کے بعد پھر سے امریکہ کو چیلنج کرے۔
انہوں نے کیوبا میں امریکی بیس کے دورے کے موقع پر کہا کہ ’ابھی یہ دفاعی حملے ہیں تاکہ ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کو یقنی بنائیں، ایران کے لیے ہمیں مزید چیلنج کرنا نادانی ہو گی۔‘
ان کے بقول ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں جو صرف ایک معاہدہ نہ ہو بلکہ امریکی عوام کی جانب سے ایک بڑی ڈیل ہو تاکہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘

شیئر: