پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 کے 33ویں میچ میں حیدرآباد کنگز مین نے ملتان سلطانز کو چار وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔
بدھ کو نیشنل سٹیڈیم کراچی میں حیدرآباد کنگز مین نے 214 رنز کا ہدف 20ویں اوور کی تیسری گیند پر چھ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا۔
حیدرآباد کنگز مین کی جانب سے وکٹ کیپر عثمان خان کی 47 گیندوں پر 101 رنز کی شاندار اننگز نے فتح کی راہ ہموار کی، ان کے علاوہ کپتان مارنس لبوشین 61 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
مزید پڑھیں
اس سے قبل حیدرآباد کنگز مین کی دعوت پر ملتان سلطانز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں پر 213 رنز بنائے تھے۔
ملتان سلطانز کی جانب سے صاحبزادہ فرحان 66 اور سٹیو سمتھ 106 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
حیدرآباد کنگز مین کی اننگز
214 رنز کے تعاقب میں حیدرآباد کنگز مین نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 19.3 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کیا۔
حیدر آباد کی اننگز کا آغاز کچھ خاص نہیں تھا اور ابتدائی وکٹیں جلد گر گئیں، تاہم کپتان مارنس لبوشین نے 41 گیندوں پر 61 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی اور ٹیم کو سنبھالا دیا۔
Player of the match Usman Khan becomes the leading HBL PSL centurion in style with the fastest century of ongoing season#HBLPSL11 | #NewEra | #HKvMS pic.twitter.com/Jq3JgXW9m0
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) April 22, 2026
میچ کا اصل ٹرننگ پوائنٹ وکٹ کیپر عثمان خان کی دھواں دار بیٹنگ رہی، جنہوں نے صرف 47 گیندوں پر 101 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ ان کی اننگز میں پانچ چوکے اور 10 چھکے شامل تھے۔
آخر میں حسن خان نے صرف چھ گیندوں پر 24 رنز بنا کر میچ کو جلد ختم کیا، جبکہ عرفان خان آٹھ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
ملتان سلطانز کی جانب سے محمد اسماعیل اور پیٹر سڈل نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔
ملتان سلطانز کی اننگز
ملتان سلطانز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 213 رنز بنائے اور حریف ٹیم کو جیت کے لیے 214 رنز کا ہدف دیا۔
اننگز کا آغاز شاندار رہا جہاں صاحبزادہ فرحان نے 43 گیندوں پر 66 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جس میں چار چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔ ان کے ساتھ سٹیو سمتھ نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 50 گیندوں پر 106 رنز سکور کیے، ان کی اننگز میں 12 چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔
#HBLPSL11 | #NewEra | #HKvMS pic.twitter.com/WX2xQ05Lxx
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) April 22, 2026












