صرف پانچ منٹ زیادہ نیند لیں اور زندگی کا ایک سال بڑھائیں: نئی تحقیق
صرف پانچ منٹ زیادہ نیند لیں اور زندگی کا ایک سال بڑھائیں: نئی تحقیق
جمعہ 16 جنوری 2026 6:41
’جو افراد نیند، جسمانی سرگرمی اور بہتر غذا کی عادت اپنا لیں تو اُن کی زندگی میں بھی اضافہ ممکن ہے‘ (فائل فوٹو: فری پِک)
ایک نئی تحقیق کے مطابق معمول سے صرف پانچ منٹ زیادہ نیند اور دو منٹ کی معتدل ورزش، جیسے سیڑھیاں چڑھنا اور تیز چہل قدمی، انسان کی زندگی میں ایک سال کا اضافہ کر سکتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق میگزین ’دی لینسٹ‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے سلسلے میں 60 ہزار افراد کے معمولات زندگی کا آٹھ برس تک جائزہ لیا گیا۔
اسی تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ جن افراد کی نیند، جسمانی سرگرمی اور غذا کی عادات خراب ہیں، اگر وہ سبزی کی کچھ مقدار کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنا لیں تو اُن کی زندگی بھی ایک سال تک بڑھ سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند، 40 منٹ سے زیادہ معتدل سے سخت جسمانی سرگرمی، اور صحت مند غذا کے استعمال سے انسان کی عمر میں نو سال سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر غیر صحت مند نیند، ورزش اور غذا کھانے والے افراد صرف نیند کے ذریعے اپنی زندگی کا ایک سال بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں روزانہ 25 منٹ تک زیادہ سونا ہوگا، تاہم ایسے افراد کو ورزش اور غذا میں بھی کچھ بہتری لانا ہوگی۔
’دی لینسیٹ‘ میں ہی شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں ناروے، سپین اور آسٹریلیا کے محققین نے بتایا کہ ’روزانہ صرف پانچ منٹ تک اضافی چہل قدمی کرنے سے زیادہ تر بالغ افراد میں موت کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔‘
ایسے افراد جو چہل قدمی جیسی سرگرمی سے دُور رہتے ہیں، یہ معمول اپنانا اُن کے لیے بھی بھی فائدہ مند ہے۔ اِس سے اُن میں موت کا خطرہ قریباً چھ فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ 1 لاکھ 35 ہزار سے زائد بالغ افراد سے حاصل کیے گئے ڈیٹا پر مبنی اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روزانہ بے کار بیٹھے رہنے کا دورانیہ 30 منٹ تک کم کر دیا جائے تو اس کے بھی صحت پر مثبت اثرات مُرتب ہوں گے۔
دس گھنٹے تک فارغ بیٹھنے والے افراد اگر 30 منٹ تک کم کر دیں تو اُن کی اموات سات فیصد تک کمی ہو سکتی ہیں (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
اس ڈیٹا سے سامنے آنے والے نتائج کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد (جو اوسطاً 10 گھنٹے تک فارغ بیٹھے رہتے ہیں) اگر وہ اس وقت کو 30 منٹ تک کم کر دیں تو اُن میں تمام وجوہات سے ہونے والی اموات قریباً سات فیصد تک کمی ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح ایسے افراد (جو روزانہ اوسطاً 12 گھنٹے غیرفعال رہتے ہیں یا بے کار بیٹھے رہتے ہیں) اگر وہ اس معمول کو اپنا لیں تو اُن کی اموات بھی قریباً تین فیصد کم ہو سکتی ہیں۔
ناروے کے سکول آف سپورٹ سائنسز اوسلو سے تعلق رکھنے والے مصنف پروفیسر ایلف ایکیلنڈ کا کہنا ہے کہ ’جسمانی سرگرمی میں معمولی اضافہ اور بے کار بیٹھنے کی عادت میں تھوڑی سی کمی سے انسان کی صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘
محققین کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کی صحت پر مجموعی اثرات پر تحقیق کے نتائج اہم ہیں، تاہم انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کے مشورے کے بجائے اپنی ذاتی صحت پر لاگو نہیں کرنا چاہیے، بلکہ یہ نتائج مجموعی آبادی کے لیے صحت کے ممکنہ فوائد کو اُجاگر کرتے ہیں جن پر مزید تحقیق ضروری ہے۔.