Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ضمنی انتخابات میں کامیابی، کیا ن لیگ کو پیپلز پارٹی کی ضرورت نہیں رہی؟

ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد مسلم لیگ (ن) پہلی مرتبہ مرکز میں اپنی حکومت کے بڑے اتحادی یعنی پیپلز پارٹی کے انحصار سے باہر نکلتی ہوئی دکھائی دینے لگی ہے۔
قومی اسمبلی کی تمام چھ خالی نشستیں جیتنے پر ایوان میں ن لیگ، پیپلز پارٹی کے علاوہ دوسرے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔  
336 نشستوں کی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت 169 ووٹوں سے قائم ہوتی ہے اور ابھی تک ن لیگ یہ اکثریت پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کی مدد سے قائم رکھے ہوئے ہے۔ لیکن ضمنی انتخابات کے ذریعے نشستوں میں اضافہ اسے پہلی مرتبہ یہ موقع دے سکتا ہے کہ وہ حکومتی بقا کے لیے پیپلز پارٹی کی مشروط حمایت سے آزاد نظر آئے۔
اس وقت ن لیگ کے پاس اسمبلی میں 126 نشستیں موجود ہیں۔ چھ نشستیں اپنی جھولی میں ڈال لینے کی صورت میں یہ تعداد 132 تک پہنچ گئی ہے جو نہ صرف حکومتی صفوں میں اس کی عددی طاقت بڑھا دے گی بلکہ سیاسی سودے بازی کے دباؤ میں بھی نمایاں کمی لا سکتی ہے۔
اس کے ساتھ اگر ایم کیو ایم پاکستان کی 22 نشستیں، مسلم لیگ ق کی پانچ، استحکامِ پاکستان پارٹی کی چار، مسلم لیگ ضیاء، باپ اور نیشنل پارٹی کی ایک ایک نشست اور چار آزاد اراکین بھی حکومتی اتحاد کے ساتھ کھڑے رہیں تو مجموعی تعداد 170 تک جا پہنچتی ہے۔ یعنی مطلوبہ حد سے ایک ووٹ زائد ہے۔
یہ منظرنامہ کم از کم یہ ثابت ضرور کرتا ہے کہ سادہ اکثریت کے لیے پیپلز پارٹی پر انحصار ناگزیر نہیں رہا، اگرچہ پارلیمانی سیاست محض اعداد کی گنتی سے زیادہ مفاہمت اور مسلسل رابطوں کی سیاست بھی ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت کا مستقبل پھر بھی اتحادی توازن اور سیاسی تعلقات کی مینجمنٹ پر ہی منحصر رہے گا۔

336 نشستوں کے قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت 169 ووٹوں سے قائم ہوتی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تبدیلی عملی سطح پر برقرار رہتی ہے تو مرکز کی سیاست کا توازن واضح طور پر بدل جائے گا، جہاں ن لیگ ایک عددی طور پر بااعتماد اور فیصلہ کن جماعت کے طور پر سامنے آ سکتی ہے۔ البتہ پارلیمان میں قانون سازی اور حکومت کے دیرپا استحکام کے لیے پیپلز پارٹی جیسے اتحادیوں سے مسلسل تعلق اور تعاون پھر بھی اہم رہے گا۔
پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے اس حوالے سے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی انتخابات میں چھ نشستیں حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ نون قومی اسمبلی میں وہ میجک نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جسے سادہ اکثریت کہتے ہیں۔
’یہ سادہ اکثریت اگرچہ اسے اپنے دوسرے چھوٹے اتحادیوں کو ملا کر حاصل ہوئی ہے لیکن سادہ لفظوں میں وہ پیپلز پارٹی کی مرہون منت نہیں رہی۔ البتہ آئینی ترمیم کے لیے مسلم لیگ نون کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنا ناگزیر ہوگا۔

ابھی تک ن لیگ اکثریت پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کی مدد سے قائم رکھے ہوئے ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے کہ دریائے سندھ پر نہروں کے معاملے کو لے کر پیپلز پارٹی نے حکومت سے علیحدہ ہونے کا عندیہ دیا تھا تو دوسری جانب پنجاب میں سپیس نہ ملنے اور مریم نواز کی جانب سے حکومتی اتحادی ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کو فیصلہ سازی میں شامل نہ کرنے اور سیلابی صورتحال میں امدادی رقوم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے دینے کی مخالفت کرنے پر بھی پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان ایک طویل لفظی جنگ بھی ہوئی تھی۔ جس کے بعد بظاہر یہ دکھائی دیتا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت سے یہ بھی شکوہ ہے کہ وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز لاہور میں صدر آصف علی زرداری کا استقبال نہیں کرتیں جو کہ ان کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف جب بھی کراچی جاتے ہیں تو وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ خود ان کا استقبال کرتے ہیں۔

شیئر: