امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع
ایران کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی پیر کو سعودی وقت کے مطابق شام 5 بجے شروع ہو گئی ہے اور یہ اقدام پاکستان میں فریقین کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ ناکہ بندی پیر کو 2 بجے (گرینوچ مین ٹائم) سے نافذ العمل ہوگی۔
بیان کے مطابق یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں، بشمول خلیج عرب اور خلیج عمان میں واقع تمام ایرانی پورٹس، میں داخل یا وہاں سے روانہ ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کے علاوہ دیگر بندرگاہوں سے اس جانب جانے یا وہاں سے آنے والے جہازوں کو آبنائے سے گزرنے سے نہیں روکا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے تجارتی راستے کی ناکہ بندی کریں گے، جسے وہ پہلے تہران سے مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کر چکے تھے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اتوار کی صبح نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر چھوڑ کر امریکہ چلے گئے تھے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ ناکہ بندی ان تمام جہازوں پر لاگو ہوگی جو اس اہم آبی گزرگاہ کے دونوں اطراف واقع ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوں گے یا وہاں لنگر انداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ فوج اس ناکہ بندی کو عملی طور پر کیسے نافذ کرے گی۔
تھنک ٹینک ’دی سوفان سینٹر‘ کے مطابق بظاہر ٹرمپ کا مقصد ایران کی برآمدی آمدنی کو محدود کرنا اور اس کے بڑے تیل خریداروں، خصوصاً چین، پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ تہران کو آبنائے کی بندش ختم کرنے پر مجبور کریں۔
ان دھمکیوں کے باوجود فوری طور پر جنگ کے دوبارہ آغاز کے کوئی آثار نہیں، جو گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے بعد رکی تھی اور جس نے خطے کو شدید تشدد کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
جنگ بندی کے بعد کم ہونے والی تیل کی قیمتیں پیر کو تقریباً آٹھ فیصد بڑھ گئیں، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ خام تیل دونوں کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
احتتام ہفتہ مذاکرات کی ناکامی نے جنگ کے مستقل خاتمے کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا۔ یہ جنگ فروری کے آخر سے جاری ہے اور اب تک ہزاروں افراد کی جان لے چکی ہے جبکہ عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
اس جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل و گیس ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، میں آمدورفت شدید متاثر رہی ہے، اور ایران صرف چند دوست ممالک، جیسے چین، کے لیے مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔
