Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ کی وارننگ: ناکہ بندی کے قریب آنے والی ایرانی کشتیوں کو تباہ کر دیا جائے گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ ایران کی کوئی بھی حملہ آور کشتی اگر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کے قریب آئی تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات بحال کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق یہ ناکہ بندی پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے شروع ہونا تھی اور اس کا اطلاق ان تمام جہازوں پر ہونا تھا جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوں یا وہاں لنگر انداز ہونے کی کوشش کریں۔
مزید پڑھیں
تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود نہ تو اس اقدام کے باقاعدہ نفاذ کا اعلان کیا گیا اور نہ ہی کسی جہاز کو روکنے کی اطلاع ملی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ایران کی بحریہ کا بڑا حصہ پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے، تاہم اگر تہران کی باقی ماندہ تیز رفتار حملہ آور کشتیاں ناکہ بندی کے قریب آئیں تو انہیں فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے تجارتی راستے کی ناکہ بندی کریں گے، جسے وہ پہلے تہران سے مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کر چکے تھے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اتوار کی صبح نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر چھوڑ کر امریکہ چلے گئے تھے۔
امریکی فوج کے مطابق یہ ناکہ بندی ان تمام جہازوں پر لاگو ہوگی جو اس اہم آبی گزرگاہ کے دونوں اطراف واقع ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوں گے یا وہاں لنگر انداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ فوج اس ناکہ بندی کو عملی طور پر کیسے نافذ کرے گی۔
تھنک ٹینک ’دی سوفان سینٹر‘ کے مطابق بظاہر ٹرمپ کا مقصد ایران کی برآمدی آمدنی کو محدود کرنا اور اس کے بڑے تیل خریداروں، خصوصاً چین، پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ تہران کو آبنائے کی بندش ختم کرنے پر مجبور کریں۔
ان دھمکیوں کے باوجود فوری طور پر جنگ کے دوبارہ آغاز کے کوئی آثار نہیں، جو گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے بعد رکی تھی اور جس نے خطے کو شدید تشدد کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
جنگ بندی کے بعد کم ہونے والی تیل کی قیمتیں پیر کو تقریباً آٹھ فیصد بڑھ گئیں، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ خام تیل دونوں کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
احتتام ہفتہ مذاکرات کی ناکامی نے جنگ کے مستقل خاتمے کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا۔ یہ جنگ فروری کے آخر سے جاری ہے اور اب تک ہزاروں افراد کی جان لے چکی ہے جبکہ عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
اس جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل و گیس ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، میں آمدورفت شدید متاثر رہی ہے، اور ایران صرف چند دوست ممالک، جیسے چین، کے لیے مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔

شیئر: