اسرائیل اور امریکہ جیت رہے ہیں اور ’ایران تباہ ہو رہا ہے‘: نیتن یاہو
ایرانی گیس فیلڈ پر حملے نے پہلے سے غیر یقینی عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں ’جیت رہے ہیں‘ جبکہ ایران ’تباہ ہو چکا ہے‘ اور نہ تو یورینیم افزودہ کرنے اور نہ ہی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انگریزی زبان میں پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے اصرار کیا کہ ایران کے وسیع ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے میں اسرائیل نے ’اکیلے کارروائی کی۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی افواج سے کہا تھا کہ آئندہ ایسے حملوں سے ’باز رہیں۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اس خیال کو بھی مسترد کیا کہ انہوں نے ٹرمپ کو اس تنازع میں گھسیٹا، اور اشارہ دیا کہ وہ ایران پر مشترکہ حملے میں جونیئر شراکت دار ہیں۔
’کیا واقعی کوئی سمجھتا ہے کہ کوئی صدر ٹرمپ کو بتا سکتا ہے کہ کیا کرنا ہے؟‘ نیتن یاہو نے صحافیوں سے کہا۔
انہوں نے مزید کہا، ’انہیں قائل کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔‘
’میرا نہیں خیال کہ کسی دو رہنماؤں میں اتنی ہم آہنگی رہی ہو جتنی صدر ٹرمپ اور میرے درمیان ہے۔ وہ رہنما ہیں، اور میں، آپ جانتے ہیں، ان کا اتحادی ہوں۔‘
نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہم ان صنعتوں کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں جو میزائل بنانے کو ممکن بناتی ہیں۔ ایران کے پاس اب یورینیم افزودہ کرنے اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت نہیں رہی۔‘
’ہم جیت رہے ہیں اور ایران تباہ ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی اسلامی جمہوریہ کی باقی قیادت کے درمیان دراڑیں بھی پیدا کر رہی ہے، جنہیں اسرائیل مزید گہرا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین نہیں کہ اس وقت ایران کو کون چلا رہا ہے۔ مجتبیٰ، جو متبادل آیت اللہ ہیں، منظرِ عام پر نہیں آئے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ہم دیکھ رہے ہیں کہ اقتدار کی دوڑ میں شامل افراد کے درمیان کافی کشیدگی ہے۔
’ہم دراڑیں دیکھ رہے ہیں، اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں جتنی جلدی ہو سکے بڑھایا جائے۔ صرف اعلیٰ قیادت ہی نہیں — ہمیں میدان میں بھی دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔‘
ایرانی گیس فیلڈ پر حملے نے پہلے سے غیر یقینی عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور ٹرمپ نے جمعرات کو اس حملے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کے دوران کہا کہ ’ہم اب ایسا نہیں کر رہے۔‘ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ یہ پیغام موصول ہو چکا ہے۔
’صدر ٹرمپ نے ہم سے آئندہ حملوں سے رکنے کو کہا ہے اور ہم رک رہے ہیں۔‘ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش، جس سے توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، ’بلیک میلنگ‘ہے جو ’کام نہیں کرے گی۔‘
