Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سِکل سٹی کا قیام: ’پاکستانی ورکرز کے سرٹیفکیٹس اب عالمی سطح پر قبول ہوں گے‘

سکِل سٹی بیرون ملک ملازمتوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
صوبہ پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں پہلے سکِل سٹی کے قیام کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ میٹرک ٹیک اور سکول بیسڈ اسکل ڈویلپمنٹ پر ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیراعلیٰ مریم نواز نے کی۔ 
حکومت کا کہنا ہے کہ سکِل سٹی کا قیام پنجاب میں فنی تعلیم کو ایک نئی جہت دے گا اور یہ نوجوانوں کے لیے بیرون ملک ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ بنے گا۔
سکِل سٹی کیا ہے؟  اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ’اس منصوبے میں جدید ترین ٹیکنیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹس قائم کیے جائیں گے، جو انڈسٹری کی ضروریات کے عین مطابق ڈیزائن کیے جائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ سکل ایجوکیشن اداروں کو سینٹرز آف ایکسی لینس میں تبدیل کیا جائے گا۔ میٹرک سطح پر ٹیک ایجوکیشن متعارف کروائی جائے گی، جس میں عملی تربیت پر زور دیا جائے گا۔  اعلیٰ ترین انسٹرکٹرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور انڈسٹری کے ماہرین نصاب کی تیاری میں شامل ہوں گے تاکہ طلبہ کو حقیقی مارکیٹ کی مہارتیں مل سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ سکِل سٹی بیرون ملک ملازمتوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ 
خیال رہے کہ پاکستان سے ہر سال لاکھوں نوجوان تربیت حاصل کرنے کے بعد ملازمت کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔ بیورو آف ایمگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 2024 میں ساڑھے 7 لاکھ پاکستانی ملازمت کے لیے بیرون ملک گئے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد تقریباً 8 لاکھ رہی۔ ان میں سے بڑی تعداد سکلڈ اور سیمی سکلڈ ورکرز کی تھی، جو ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ سے گزر چکے تھے۔ سکِل سٹی ان نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت دے کر ان کے بیرون ملک ملازمت کے امکانات کو مزید بڑھا دے گی اور برین ڈرین کو برین گین میں تبدیل کرے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سکِل سٹی کا قیام پنجاب میں فنی تعلیم کو ایک نئی جہت دے گا (فوٹو: اے ایف پی)

اجلاس میں ایک اور اہم فیصلہ یہ ہوا کہ پنجاب ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن بورڈ کا سکاٹ لینڈ اور برطانوی اداروں سے الحاق کیا جائے گا۔ اس الحاق کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب کے ٹیکنیکل سرٹیفکیٹس اور ڈگریاں سکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے اداروں کے معیار کے مطابق تسلیم ہوں گی۔ نصاب کو انٹرنیشنل سٹینڈرڈز کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا، ٹریننگ کے طریقہ کار میں بہتری آئے گی اور گریجویٹس کے پاس عالمی سطح پر تسلیم شدہ کوالیفیکیشنز ہوں گی۔
اس شعبے کے ماہرین نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر نصیر خان کشانی نے کہا کہ’سکِل سٹی اور ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن بورڈ کے سکاٹ لینڈ و برطانوی اداروں سے الحاق سے ہمارے سکلڈ لیبر کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ بیرون ملک، خاص طور پر یورپ اور خلیجی ممالک میں ملازمتیں حاصل کرنے والے پاکستانی ورکرز کے سرٹیفکیٹس اب عالمی سطح پر قبول ہوں گے، جو ویزا اور معاہدوں میں بڑی سہولت فراہم کرے گا۔ ہم قانون کے مطابق ہزاروں سکلڈ ورکرز بھیج رہے ہیں اور یہ الحاق ہمارے لیے نئے دروازے کھول دے گا۔‘

پنجاب ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن بورڈ کا سکاٹ لینڈ اور برطانوی اداروں سے الحاق کیا جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)

نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عامر جان نے اس حوالے سے کہا کہ ’یہ الحاق پنجاب کے نوجوانوں کو نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق تیار کرے گا۔ ہم او او سی کے ساتھ مل کر سکلڈ لیبر ایکسپورٹ کر رہے ہیں اور اب برطانوی اور سکاٹش معیار کی تربیت سے ہمارے ورکرز کی قابلیت میں اضافہ ہوگا، جو قانونی طور پر بیرون ملک ملازمتیں حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ قدم پاکستان کی ترسیلاتِ زر میں بھی نمایاں اضافہ لائے گا۔‘
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اجلاس میں ہدایت کی کہ سکِل سٹی کے تفصیلی منصوبے جلد از جلد پیش کیے جائیں تاکہ یہ منصوبہ جلد عملی شکل اختیار کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہر نوجوان کو جدید سکلز سے آراستہ کرنا ان کی ترجیح ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف صوبائی سطح پر بے روزگاری کم کرے گا بلکہ پاکستان کو سکلڈ لیبر برآمد کرنے والے ملک کے طور پر مزید مضبوط بنائے گا۔

شیئر: