Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران کے خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی تیاریاں کیوں کر رہا ہے؟

خلیج عرب میں ایک چھوٹا سا مرجانی جزیرہ خارگ واقع ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
اس کی وجہ اس کا رقبہ نہیں بلکہ اس کی اہمیت میں حالیہ دنوں میں اس لیے اضافہ ہوا ہے کیوں کہ عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کا کردار مرکزی نوعیت کا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ایران کے ساحل سے قریباً 30 سے 50 کلومیٹر دُور واقع یہ جزیرہ ایرانی تیل کی برآمدات کا مرکز ہے۔ ایران کی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد اس جزیرے سے گزرتا ہے، جس کے باعث یہ ایران کے لیے اقتصادی طور پر غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے لیکن اس کی یہ اہمیت اس کی سٹریٹجک کمزوری کے طور پر بھی اُبھری ہے۔
امریکی افواج نے 13 مارچ کو جزیرے پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن میں 90 سے زیادہ فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا، جن میں میزائل سٹوریج اور بحری مائنز کے مراکز شامل تھے۔ 
ان حملوں میں جان بوجھ کر تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا، تاکہ توانائی کی منڈی پر اثرات کم سے کم رہیں۔
یہ امریکہ کا ایک ایسا اقدام ہو سکتا ہے جس پر ایران کی جانب سے شدید ردِعمل ظاہر کیے جانے کے امکانات غیرمعمولی طور پر بڑھ سکتے ہیں۔
خارگ جزیرہ کیوں اہم ہے؟
خارگ جزیرے کی اہمیت اس کے منفرد جغرافیے اور بنیادی ڈھانچے میں ہے۔ ایران کے زیادہ تر کم گہرائی والے ساحلوں کے برعکس یہ جزیرہ گہرے پانیوں میں واقع ہے جس کے باعث بڑے سُپر ٹینکر اس جزیرے پر لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس نے وقت کے ساتھ اسے ایران کے لیے تیل کی برآمدات کے لیے پُرکشش ترین مقام بنا دیا ہے۔
یہ جزیرہ ایران کے تیل کے اہم ذخائر سے پائپ لائنوں کے ذریعے منسلک ہے اور یہاں وسیع سٹوریج کی سہولیات موجود ہیں، جو اسے تہران کے لیے ایک اہم اقتصادی اثاثہ بناتی ہیں، کیونکہ ملک کی ریاستی آمدنی کا انحصار زیادہ تر توانائی کی برآمدات پر ہے۔
ایران کی وزارتِ تیل کے مطابق خارگ جزیرہ خطے کا مرکزی ہب ہے جہاں خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات ذخیرہ کی جاتی ہیں اور پھر برآمد کی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایران نے جزیرے کے بنیادی ڈھانچے میں اضافہ جاری رکھا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق 2025 میں اس ٹرمینل کی لوڈنگ کی صلاحیت روزانہ 70 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی تھی، تاہم موجودہ برآمدات کا تخمینہ کافی کم قریباً 16 لاکھ بیرل روزانہ ہے۔
سنہ 1960 کی دہائی کے دوران جزیرے میں تیل کے ٹرمینل کے قائم ہونے سے قبل بھی یہ جارح افواج کے لیے ایک سمندری انعام رہا ہے۔ 
پرتگالیوں نے 1700 کی دہائی میں مختصر مدت کے لیے جزیرے پر قبضہ کیا، اس کے بعد یہ ہالینڈ کے زیرِانتظام آیا، تو ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یہاں ایک بڑا قلعہ بنایا لیکن 1766 میں وہ بھی اس جزیرے سے چلے گئے۔
صدر ٹرمپ جزیرے پر قبضہ کرنے پر غور کیوں کر رہے ہیں؟
امریکی ٹی وی سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام خارگ جزیرے پر کنٹرول کو ایران کے بنیادی آمدنی کے ذرائع کو کاٹنے اور تہران کو اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کرنے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمز کی بندش ہے۔
امریکہ پُرامید ہے کہ وہ جزیرے پر قبضہ کرکے ایران کی تیل برآمدات پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر پورے ملک پر بنیادی ڈھانچوں پر حملوں یا بیش قیمت زمینی مہم چلائے بغیر ایران کی معیشت کو کمزور کر سکتا ہے۔
بڑھتے ہوئے خطرات اور ایران کی تیاری
سی این این کے مطابق ایران نے جزیرے کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے یہاں میزائل سسٹمز تعینات کیے ہیں اور ساحل کے ساتھ بارُودی سُرنگیں بچھا دی ہیں۔
فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سی این این نے ایک ماہر کا حوالہ بھی دیا ہے جس کے مطابق ایرانی افواج حملہ آور فوجیوں کو ’زیادہ سے زیادہ جانی نقصان‘ پہنچانے کی کوشش کریں گی۔
ایران نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اس کی زمین پر کسی بھی قبضے کی کوشش خلیج میں بنیادی ڈھانچے کے خلاف ردِعمل کو جنم دے گی، جس سے وسیع تر علاقائی تصادم کے خطرات بڑھ جائیں گے۔

 

شیئر: