گھریلو کارکن کو یومیہ دس گھنٹے سے زیادہ کام پر ’اوور ٹائم‘ دیا جائے: نئے ضوابط جاری
ضوابط میں کہا گیا ’گھریلو کارکنوں کی عمر 21 برس سے کم نہ ہو (فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی وزارتِ افرادی قوت نے گھریلو ملازمین کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں۔ کارکن سے یومیہ 10 گھنٹے سے زیادہ کام لینے کی صورت میں فی گھنٹہ ’اوور ٹائم‘ دیا جائے گا۔
عکاظ کے مطابق ضوابط میں کہا گیا کہ’ ملازمت ختم ہونے پر کارکن کے اینڈ آف سروس بینیفٹس ادا کیے جائیں۔‘
’حقوق کی عدم ادائیگی یا کسی اور نوعیت کا اختلاف ہونے کی صورت میں ملازمت کے معاہدے کے خاتمے سے 12 ماہ کے اندر عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ مقررہ مدت گزرنے کے بعد کوئی دعوی قابل قبول نہیں ہوگا۔‘
ضوابط میں یہ بھی کہا گیا ’گھریلو کارکنوں کی عمر 21 برس سے کم نہ ہو، آجر کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ فریق ثانی کی ذاتی آزادی کے خلاف اسے کسی کام پر مجبور نہ کرے۔‘
کارکن سے 24 گھنٹے میں مسلسل 10 گھنٹے سے زیادہ کام نہ لیا جائے۔ مقررہ یومیہ گھنٹوں میں عبادت اور کھانے کا وقفہ دیا جائے، جو کم از کم 30 منٹ کا ہو۔
نئے ضوابط میں مزید کہا گیا ’گھریلو کارکن کے لیے یومیہ مسلسل آرام کا دورانیہ 8 گھنٹے سے کم نہ ہو، اگر کارکن سے اضافی کام لینا مقصود ہو تو آجر کےلیے لازمی ہوگا کہ مقررہ آوورز کے بعد فی گھنٹہ اضافی اجرت ادا کرے، جو ورک ایگریمنٹ کے حساب سے ادا کی جائے گی۔‘
’ہفتے میں ایک دن اجرت کے ساتھ مکمل آرام کا ہو گا، جو 24 گھنٹے سے کم نہ ہو جبکہ ویک اینڈ کا تعین باہمی رضامندی سے کیا جاسکتا ہے۔‘

ہفتہ وار تعطیل کے روز کام کرنے کی صورت میں کارکن کو حق ہو گا کہ وہ متبادل چھٹی یا اس کے مساوی اجرت لے، اس کا تعین باہمی رضا مندی سے کیا جائے۔
آجر کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ گھریلو کارکن کے حقوق کا مکمل تحفظ کرے، اقامہ، لیبر کارڈ و دیگر امور کی جملہ فیسوں کی ادائیگی آجر کے ذمہ ہوگی۔
کارکن کا پاسپورٹ یا دیگر ذاتی شناختی دستاویزات، آجر کسی بھی صورت میں اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکتا۔ کارکن سے جسمانی یا لفظی بدسلوکی نہ کی جائے نہ ہی رنگ، نسل ، قومیت یا کسی اور وجہ سے کسی طرح کا امتیازی سلوک رکھا جائے۔
کارکن کو کسی بھی طرح کی غیرمناسب سرگرمی میں ملوث نہ کیا جائے، اس سے جبری مشقت نہ لی جائے اور ان امور سے گریز کیا جائے جو انسانی سمگلنگ کے دائرے میں آتے ہوں۔

وزارت نے ضوابط میں کارکن کے فرائض بھی واضح کیے ہیں، جن میں کارکن اس بات کا پابند ہو گا کہ وہ آجر اور اس کے اہل خانہ کا احترام کرے، تمام امور کو بخوبی ادا کرے، گھر اور اہل خانہ کے راز کی حفاظت کرے، کسی سے افشا نہ کرے، آداب عامہ کا خیال رکھے۔
کارکن کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ صرف اپنے سپانسر کے پاس ہی کام کرے، اپنے طور پر آزاد کام کرنے سے گریز کرے اور مملکت میں رائج قوانین کا احترام کرے۔
