Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ترکیہ کے ساحل کے قریب افغان مہاجرین کی کشتی اُلٹ گئی، ایک بچے سمیت 19 ہلاک

ترک حکام نے کہا ہے کہ بدھ کو افغان مہاجرین کو لے جانے والی ایک تیز رفتار کشتی بحیرہ ایجیئن میں خراب موسم کے دوران کوسٹ گارڈ سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے اُلٹ گئی، جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ترک کوسٹ گارڈ کمانڈ نے کہا ہے کہ درجنوں مہاجرین کو لے جانے والی اس کشتی نے بار بار رُکنے کے انتباہ کو نظر انداز کیا اور تیز رفتاری سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
 بلند سمندری لہروں کے باعث کشتی میں پانی بھرنا شروع ہو گیا اور بالآخر وہ اُلٹ گئی۔ کشتی میں سوار کم سے کم 20 دیگر مہاجرین کو بچا لیا گیا۔
یہ حادثہ ترکی کے ساحلی شہر بودروم کے قریب پیش آیا، جو ملک کا ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔
کوسٹ گارڈز کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے، جنہیں قریبی شہر ازمیر سے بھیجے گئے ہیلی کاپٹر کی مدد حاصل تھی، ابتدائی طور پر زندہ بچ جانے والے 21 مہاجرین کو پانی سے نکالا اور 18 لاشیں برآمد کیں۔ بعد میں ایک اور مہاجر ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
کوسٹ گارڈز کے مطابق کم سے کم ایک اور لاپتا شخص کی تلاش جاری ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے حوالے سے لکھا ہے کہ صوبہ موغلا کے گورنر ادریس اکبییک نے کہا ہے کہ تمام مہاجرین کا تعلق افغانستان سے تھا، اور ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔
یونان کا جزیرہ کوس بودروم سے قریباً 20 کلومیٹر (13 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ دیگر قریبی جزائر میں کالیمنوس، لیروس اور سیمی شامل ہیں۔
یونان ان لوگوں کے لیے یورپی یونین میں داخلے کے اہم راستوں میں سے ایک ہے جو مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا میں جاری تنازعات اور غربت کی وجہ سے نقل مکانی کرتے ہیں۔ 
ان میں سے بہت سے افراد ترکی کے ساحل سے قریبی یونانی جزائر تک چھوٹی کشتیوں میں مختصر مگر خطرناک سفر کرتے ہیں۔ 
یہ کشتیاں اکثر غیر محفوظ ہوتی ہیں یا خراب موسم میں روانہ ہوتی ہیں، جس کے باعث ان علاقوں میں جان لیوا حادثات عام ہو چکے ہیں۔
 

شیئر: