مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کے اسرائیلی قانون کی مذمت
جمعرات 2 اپریل 2026 19:30
مشترکہ بیان میں اس قانون کو ’خطرناک اضافہ‘ قرار دیا گیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ملکوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے اس متنازع قانون کی مذمت کی ہے، جو مغربی کنارے میں سزائے موت کے نفاذ اور فلسطینوں پر اس کے عملی اطلاق کی اجازت دیتا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری مشترکہ بیان میں اس قانون کو ’خطرناک اضافہ‘ قرار دیا خصوصا ا س لیے کہ اس کا اطلاق امتیازی طور پر فلسطینی قیدیوں پر کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’اس طرح کے اقدامات سے کشیدگی میں مزید اضافہ اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔‘
مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے بڑھتے ہوئے امتیازی طرز عمل سے خبردار کیا، جو ایک ایسے نظام کو مضبوط کر رہا ہے، جو نسلی امتیاز پر مبنی ہے، ایک ایسا بیانیہ جو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق اور ان کے وجود سے انکار کرتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کی حالت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور مصدقہ اطلاعات کے تناظر میں بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا، جن میں مبینہ تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’ یہ طرز عمل فلسطینیوں کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔‘
یاد رہے اسرائیلی پارلیمنٹ نے پیر کو ایک نیا متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں ایسے فلسطینی جو اسرائیلیوں کے قتل کے جرم میں مجرم قرار دیے گئے انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
