Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مناسکِ حج کا آغاز، لاکھوں عازمینِ حج آج کا دن منیٰ میں گزاریں گے

حج 1447 ہجری کے مناسک کا آغاز ہو چکا ہے۔ سال میں چند دنوں کے لیے آباد ہونے والی عارضی خیمہ بستی منیٰ ’لبیک‘ کی صداؤں سے گونج اٹھی ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج آج 8 ذوالحجہ ’یوم الترویہ‘ وادی منیٰ میں  گزاریں گے۔
چند ہی دنوں میں مکہ مکرمہ کے قلب میں واقع یہ وادی ایک مکمل اور منظم شہر میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں غیرمعمولی انتظامات کے ذریعے دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمینِ حج کو شاندار انداز میں سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور یوں ایمان و عقیدت کا ایک عظیم منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔
منیٰ ایک جدید عارضی شہر کی شکل اختیار کر لیتا ہے جہاں لاکھوں عازمینِ حج کے لیے غیرمعمولی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ سفید خیموں پر مشتمل اس بستی میں بجلی، ٹھنڈک، سکیورٹی، طبی سہولیات، خوراک اور آمدورفت کے منظم نظام مسلسل کام کرتے ہیں۔
عازمینِ حج کی نقل و حرکت اور ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط منصوبہ بندی سے مدد لی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مشاعرِ مقدسہ دنیا میں بڑے اجتماعات کے بہترین انتظام کی مثال سمجھے جاتے ہیں۔
مکہ مکرمہ سےعازمینِ حج کو منیٰ منتقل کرنے کے لیے مشاعرِ مقدسہ ٹرین اور بسوں کا استعمال کیا گیا جبکہ محدود تعداد میں ایسے عازمینِ حج بھی پیدل منیٰ پہنچے جن کی رہائش وادیِ منیٰ کے قریب واقع تھی۔
ہر برس کی طرح سال رواں بھی منیٰ میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے شاہراہوں پر پھوار برسانے والے پولز اور پنکھے فعال کر دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے گرمی کا احساس کم ہو جاتا ہے۔

منیٰ کی عارضی خیمہ بستی لاکھوں فرزندان اسلام کی آمد کے ساتھ ہی آباد ہو جاتی ہے۔ عازمینِ حج اپنے خیموں میں قیام کرنے کے بعد منیٰ کے مختلف مقامات پر یادگاری تصاویر بھی بناتے دیکھے گئے۔
وزارتِ حج کی جانب سے مشاعر مقدسہ میں عازمین کی نقل و حمل کو منظم رکھنے کے لیے تمام حج مشنز کو شیڈول جاری کیا گیا ہے جس کا مقصد ازدحام کو کنٹرول اور نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے۔
ٹریفک پولیس کے اضافی یونٹس بھی مشاعر مقدسہ میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے شاہراہوں پر موجود ہیں جبکہ شہری دفاع اور سکیورٹی اہلکار بھی عازمین کی خدمت کے لیے مستعد دکھائی دے رہے ہیں۔

میونسپلٹی کی جانب سے بھی مشاعر مقدسہ میں صفائی کے جامع انتظامات دیکھنے میں آئے۔ صفائی کے لیے ہزاروں کارکنوں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا جبکہ کچرا اٹھانے کے لیے خصوصی گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔
واضح رہے وادی منیٰ، مکہ مکرمہ اور میدان مزدلفہ کے درمیان واقع ہے جبکہ مسجد الحرام سے شمال، مشرق کی جانب سات کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

شیئر: