ایران نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، شرائط کافی نہیں: ٹرمپ
ایران نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، شرائط کافی نہیں: ٹرمپ
پیر 6 اپریل 2026 18:50
ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے تاہم اس نے عارضی جنگ بندی کے تحت آبنائے ہُرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کے دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔ جبکہ امریکہ اور ایران اپنی پانچ ہفتوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے جس میں جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے مستقل امن کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی جواب 10 نکات پر مشتمل ہے، جن میں خطے میں تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہُرمز سے محفوظ گزرگاہ کا طریقہ کار، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیرنو شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے منگل کی رات (امریکی وقت کے مطابق) تک ایران کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ کھولنے کی ڈیڈ لائن دی تھی اور بصورت دیگر تہران پر ’جہنم کے دروازے‘ کھولنے کی دھمکی دی تھی، نے پیر کو ایرانی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ڈیڈ لائن حتمی ہے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایسٹر کی ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے ایک تجویز پیش کی ہے، یہ ایک اہم قدم ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایرانی حکومت سے ناراض ہیں اور اسے ’اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔‘
ایران نے عارضی جنگ بندی کے تحت آبنائے ہُرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کے دباؤ کو مسترد کر دیا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
صدر ٹرمپ نے اس خدشے کو بھی مسترد کر دیا کہ اگر وہ اس ہفتے ڈیڈلائن کے بعد ایران کے بجلی کے مراکز کو نشانہ بناتے ہیں تو یہ جنگی جرم تصور ہو گا۔ ’میں اس بارے میں فکر مند نہیں ہوں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ بجلی گھروں پر حملہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے تو امریکی صدر نے جواب دیا کہ ’آپ جانتے ہیں جنگی جرم کیا ہے؟ جنگی جرم یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جائے۔‘
فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہُرمز کو بند کر دیا تھا جو دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ عالمی معیشت پر اس گزرگاہ کے اثر و رسوخ نے ایران کو ایک مضبوط سفارتی برتری دی ہے اور پیر کو اس نے واضح کیا کہ وہ اسے آسانی سے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں تیار کیا گیا فریم ورک رات بھر کے رابطوں کے بعد سامنے آیا جس میں فوری جنگ بندی اور اس کے بعد 15 سے 20 دن کے اندر وسیع تر امن معاہدے پر مذاکرات کی تجویز دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکی دی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کے مطالبات کو ’کمزوری نہیں بلکہ اپنے موقف کے دفاع پر اعتماد کا اظہار سمجھا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے پہلے پیش کیے گئے مطالبات، جیسے 15 نکاتی منصوبہ، کو ’حد سے زیادہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا تھا۔