Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صحرا سے جاپان ایکسپو تک کا سفر، ’سُدو‘ کی ماہر ام فہد کی کہانی

سعودی عرب کی قدیم  اور روایتی دستکاری ’سُدو‘ کی ماہر کاریگر ’ام فہد‘ نامی خاتون ہینڈ بیگ، بیلٹ اور دیوار پر نصب کرنے والی مختلف اشیا تیار کرتی ہیں۔
ام فہد نے جو 13 برس کی عمر سے اپنی والدہ کے ساتھ یہ کام کر رہی ہیں، اخبار 24 کو بتایا کہ وہ خیموں کی تیاری کے لیے خود بھیڑوں کی اون لاتے اور اسے رنگین کر کے شاندار سدد تیار کرتے تھے۔‘
صحرا نشینوں کی دستکاری کی ماہر خاتون نے اپنی ابتدائی زندگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’بچپن کا بیشتر وقت والدہ کے ساتھ گزرا، جو میری پہلی درس گاہ تھی۔‘
ام فہد کا کہنا تھا کہ ’والدہ کو اون سے دھاگہ بنتے ہوئے دیکھ کر مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں بھی اسی طرح دھاگہ بناؤں اور والدہ کا ہاتھ بٹاؤں۔‘
ام فہد کا کہنا تھا سدو محض عارضی سجاوٹ کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ سعودی ثقافت کی شناخت اور روح ہے۔ انہی دھاگوں سے زندگی کی تفصیلات بنی جاتی تھیں۔ محجر، رواق (اون سے دھاگا بنانے کا آلہ) کے ذریعے بیوت الشعر(اونی خیمے) تیار کیے جاتے۔

 ام فہد کو کئی اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ ان کے عروج کی کہانی کا آغاز ’سُوق عکاظ‘ سے ہوا جہاں انہوں نے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کامیابی نے ان کے لیے بیرون ملک، سعودی عرب کی نمائندگی کے دروازے کھول دیے۔
ام فہد، اب تک ہیریٹج اتھارٹی کے ذریعے اٹلی، ایکسپو دبئی، شیخ زاید فیسٹیول اور جاپان ایکسپو جیسے بڑے اور عالمی پلیٹ فارمز پر مملکت کی نمائندگی کر چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’آج کی لڑکیوں کو یہ نصیحت کرتی ہوں کہ وہ خود انحصاری اختیار کریں۔ کوئی کام مشکل نہیں ہوتا۔ ہنر، ہمیشہ ہنر رہتا ہے جو کوئی ہنر میں مہارت حاصل کرلیتا ہے وہ اس کے لیے ایک گراں قدر خزانہ بن جاتا ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوتا۔‘

ام فہد کا یہ سفر محض ایک قدیم ہنر یا پیشے کی کہانی نہیں بلکہ ایک ثقافت ہے جس نے سدو کے دھاگوں کو عالمی زبان بنا دیا جو ماضی کی روایت اور مستقبل کے خواب دونوں کو بیان کرنے کے ساتھ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ورثہ محض عجائب گھروں میں رکھی خاموش چیزوں کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو پروان چڑھتی اور براعظموں کا سفر کرتی ہے۔

 

 

شیئر: