دہائیوں قبل حج کرنے والے بزرگ عازمین حج انتظامات میں تبدیلی پر خوش
عازمین کے مطابق سب سے بڑی تبدیلی جمرات کے ایریا میں آئی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
کئی دہائیوں قبل حج کی سعادت حاصل کرنے والے بزرگ حجاج کرام کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حج کے سفر میں شاندار تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں جسمانی طور پر تھکاوٹ والا سفر اب نہایت منظم تجربہ بن چکا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق موجودہ دور میں حج کا سفر جدید ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک، کولنگ ٹیکنالوجیز اور بہترین انفراسٹرکچر سے بھرپور ہے جو لاکھوں عازمین کو آسانی اور تحفظ سے مناسک ادا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ تبدیلی سعودی وژن 2030 اور پِلگرم ایکسپیریئنس پروگرام کے تحت مقدس مقامات پر سہولیات کو مسلسل بہتر بنانے کی سعودی عرب کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
1970 کی دہائی میں اپنی فیملی کے ساتھ حج کرنے والے 61 برس کے محسن جمبی یاد کرتے ہیں کہ اُن کے والد ایک مطوف کے مددگار کے طور پر کام کرتے تھے جو جنوب مشرقی ایشیا سے آنے والے حجاج کی خدمت اور رہنمائی کے ذمہ دار تھے۔
محسن جمبی کہتے ہیں کہ ’اُس وقت حج سیزن کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں مکہ فیملیز کام کرتی تھیں۔ میرے والد عازمین حج کی رہائش، ٹرانسپورٹ اور مقدس مقامات کے لیے نقل و حرکت کے انتظامات کرتے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مکہ کے لوگوں کے لیے حج سیزن شاندار وقت ہوتا تھا کیونکہ کئی فیملیز ٹرانسپورٹ، فوڈ سروس اور خدمات کے لیے حج پر انحصار کرتی تھیں۔‘
جمبی کے مطابق مطوف سسٹم اس وقت نیک نامی اور دیرینہ تعلقات پر چلتا تھا۔ حجاج کرام مخصوص گائیڈز اور خاندانوں ہی سے اپنے حج کے انتظامات کرنے کی فرمائش کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ان فیملیز نے کئی دہائیوں سے اپنی ساکھ قائم کی ہوئی تھی، اگر کسی مطوف کی عزت زیادہ ہوتی تو اس ملک کے لوگ خاص طور پر اسی کے ساتھ جانے کی درخواست کرتے۔‘

انہوں نے اپنے والد کے ساتھ منیٰ جانے کی یاد تازہ کی جہاں جمرات کے لیے حجاج کو گائیڈ کیا جاتا اور کیمپوں میں کھانا اور پانی پیش کیا جاتا جبکہ اُن کی والدہ خواتین عازمین حج کو مناسک سے متعلق معلومات فراہم کرتی تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم کسی نہ کسی طرح مدد کرتے رہتے تھے۔ عید پر فیملیز منیٰ میں اکھٹی ہو جاتی تھیں اور حجاج کے ساتھ مٹھائیاں تقسیم کرتی تھیں۔‘
جمبی کہتے ہیں کہ پرمٹ کے متعارف کروانے سے قبل حج کھلا ہوتا تھا جہاں دنیا بھر کے عازمین کھلے عام سفر کرتے تھے جس سے حج سیزن کے دوران رش بڑھ جاتا تھا۔
پچھلی دہائیوں میں ٹرانسپورٹ کا زیادہ انحصار ضرورت سے زیادہ بھری ہوئی بسوں پر تھا۔ کچھ حجاج منظم گروپوں میں سفر کرتے تھے لیکن دوسرے لوگ نجی گاڑیوں یا پک اپ ٹرکوں میں آتے تھے جہاں ایک ہی گاڑی میں زیادہ لوگوں کو بٹھایا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’تب بسوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ عازمین بسوں میں کچھا کھچ بھرے ہوتے تھے اور کئی مرتبہ بسوں کی چھتوں پر بیٹھ جاتے تھے۔‘

جمبی کے مطابق آج حج کا تجربہ ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، پرمٹ سسٹم اور کراؤڈ مینیجمنٹ میں تبدیلیوں کی وجہ سے آسان ہوگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اب معاملات بالکل مختلف ہیں۔ ٹرانسپورٹ زیادہ منظم ہے۔ اب بسیں، ٹرینیں اور محفوظ واکنگ روٹ ہیں۔ اب اگر مقدس مقامات کے درمیان چلنا پھرنا بھی چاہیں تو آسانی سے کر سکتے ہیں۔‘
سعودی عرب نے اس سال مسجد الحرام کے لیے تین ہزار سے زائد بسیں مختص کی ہیں جبکہ پانچ ہزار بسیں شٹل سروسز کے لیے مہیا کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہولی سائٹس ٹرین 72 ہزار مسافر فی گھٹنہ کی تعداد میں کام کر رہی ہے۔
جمبی کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ تبدیلی جمرات کے ایریا میں آئی ہے جہاں کنکریاں مارتے وقت بہت زیادہ رش ہو جاتا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اب نقل و حرکت شیڈول کے مطابق ہوتی ہے۔ پورا دن گروپوں کو مختلف ٹائم دیے جاتے ہیں جبکہ جمرات کو کئی لیول پر پھیلا دیا گیا ہے جس سے بہت فرق پڑا ہے۔‘

سعودی عرب اب رش کو مانیٹر کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس سسٹم سے کام لے رہا ہے جو رش کی پیش گوئی کرتا ہے۔
63 سال کی جملہ الشاریدہ نے بتایا کہ تین دہائیاں قبل حج آج سے مختلف ہوتا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’سب کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔ ہم منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے درمیان آنے جانے کے لیے اپنا سامان ساتھ رکھتے تھے کیونکہ آج کی طرح کے انتظامات نہیں تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’عرفات سے ہم اکثر پیدل چل کر آتے تھے کیونکہ رش کی وجہ سے بسیں بہت دیر لگاتی تھیں۔ انتظار کرنے سے پیدل چلنا بہتر لگتا تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ اُس دور میں حج آج کے مقابلے میں زیادہ جسمانی مشقت والا تھا۔

الشاریدہ کہتی ہیں کہ ’اب پھوار والے سپرے ہیں، چھتریاں ہیں اور بہتر ٹرانسپورٹ ہے جس سے بہت فرق پڑتا ہے۔ اب مقامات کے درمیان 10 یا 15 منٹوں میں آ جا سکتے ہیں، اور اب سایہ دار جگہیں ہیں، ریسٹ روم ہیں اور آرام کرنے کی جگہیں ہیں۔‘
اس سال کی حج کی تیاریوں کے تحت سعودی عرب نے مقدس مقامات پر گرین سپیسس کو پھیلانے کے لیے 60 ہزار سے زائد درخت لگائے ہیں۔ مملکت نے عازمین کو گرمی سے راحت دینے کے لیے چھ ہزار سے زائد پھوار والے پنکھے نصب کیے ہیں۔
مقدس مقامات کے اردگرد پیدل چلنے والوں کے لیے سایہ دار واک ویز بنائی گئی ہیں جن میں سیٹنگ ایریا کو لگایا گیا ہے جبکہ کولنگ سسٹمز اور عازمین کی لمبی واک کے لیے ربڑ فلورنگ کو نصب کیا گیا ہے۔
الشاریدہ کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی تبدیلی جمرات کے ایریا میں آئی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’پہلے طاقتور اور تیز ترین حجاج کنکریاں مار کر چلے جاتے تھے اور بوڑھے لوگ رش میں پھنس جاتے تھے۔ کھلے راستوں، ایسکلیٹرز اور کراؤڈ مینیجمنٹ سسٹم نے حج کے تجربے میں تبدیلی لا دی ہے۔‘
