Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی مہم جُو بدر الشیبانی ’دا ایکسپلوررز کلب‘ میں شامل

کلب کے اراکین میں مشہور سائنسدان، مہم جُو اور خلاباز شامل ہیں، ( فوٹو: عرب نیوز)
سعودی کاروباری شخصیت اور مہم جُو بدر الشیبانی ’دا ایکسپلوررز کلب‘ کے بین الاقوامی رکن منتخب ہو گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اِن کا اس کلب میں انتخاب ایک ایسا سنگِ میل ہے جو عالمی سطح پر سعودی عرب کے مہم جُوؤں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا عکاس ہے۔
نیویارک میں سنہ 1904 میں قائم ہونے والا ’دا ایکسپلوررز کلب‘، دنیا کے انتہائی باوقار اداروں میں سے ایک ہے اور مہم جُوئی کے اُمور اور ریسرچ کے لیے وقف ہے۔
اِس کے اراکین میں مشہور سائنسدان، مہم جُو اور خلاباز شامل ہیں، جنھوں نے انسانی ذہن کو زمین اور اِس سے آگے کی دنیا کے بارے میں معلومات دی ہیں اور اُنھیں سمجھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
ایک پریس ریلیز کے مطابق الشیبانی نے دنیا کی مختلف انتہاؤں والے ماحول میں برسوں مہم جُوئی کی ہے جس کے بعد انھیں اِس کلب کی رکنیت دی گئی ہے۔

انھوں نے ’سات پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کا‘ چیلنج مکمل کیا اور ہر برِاعظم میں بلند ترین چوٹیوں کو سر کیا جن میں ماؤنٹ ایورسٹ بھی شامل ہے جو زمین پر سب سے بلند چوٹی کہلاتی ہے۔
علاوہ ازیں الشیبانی نے کئی دیگر مہمات میں بھی حصہ لیا جو متنوع علاقوں میں واقع تھیں۔اُن میں کچھ بلندی پہاڑی علاقوں اور کچھ قطبی مقامات اور ارضیاتی ماحول تک پھیلی ہوئی تھیں جن میں غار اور فعال آتش فشاں بھی شامل ہیں۔
الشیبانی کے سفر میں ربع الخالی جیسے صحرا کو پیدل عبور کرنا  شامل ہے۔ ربع الخالی دنیا میں ریتیلے صحراؤں میں سب سے بڑا صحرا شمار ہوتا ہے۔

اُنھوں نے زمین پر انتہائی دشوار گزار ماحول رکھنے والے قطبِ منجمد جنوبی کی مہم کو بھی پیدل سر کیا ہے۔ اِس مہم کے دوران انھوں نے قطبی حالات میں انسان کو پیش آنے والے ماحول اور چیلنجز کو دستاویز شکل دی ہے۔
اِس کے علاوہ مہم جُوئی کے دوران اپنے سفر سے تحریک حاصل کرتے ہوئے الشیبانی دستاویزی فلمیں بھی بناتے ہیں جن کا مقصد مہم جُوئی کے تجربات کو تعلیمی اور بصری بیانیوں میں اِس طرح پیش کرنا ہے جس سے ماحول کے بارے میں آگاہی اور دریافت کے کلچر کو فروغ  ملے۔

دا ایکسپلوررز کلب‘ میں شمولیت پر الشیبانی نے اِسے اپنے سفر کا ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا اور بتایا کہ ’آج مہم جوئی صرف مختلف مقامات کو دریافت کر لینے پر منتج نہیں بلکہ انسانیت کو سمجھنے اور ماحول سے انسان کے رشتے کو جاننے کا نام بھی ہے۔‘
الشیبانی کو ایسے وقت پر ایک ممتاز کلب کی رکنیت ملی ہے جب سعودی عرب ’وژن 2030‘ کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو کر ایکو سیاحت اور مہم جُوئی کے تجربات پر بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

 

شیئر: