Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی جنگ بندی کی ڈیڈلائن قریب، ایران کا ماننے سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ڈیڈلائن دے رکھی ہے (ٖفوٹو: اے ایف پی)
تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جنگ بندی کے معاہدے کو ماننے سے انکار کے بعد منگل کو ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ایک ایسے موقع کے بعد ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو اپنے مطالبات ماننے یا پھر ’تباہی‘ کا سامنا کرنے کا بیان سامنے آیا۔
پلان سے واقفیت رکھنے والے سورسز کے مطابق ایران نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی مشاورت کے بعد اس تجویز کو مسترد کیا۔ سورسز کا کہنا ہے اس میں فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر کھولنے کے نکات علاوہ یہ بھی شامل تھا کہ 15سے 20 دنوں کے دوران تصفیے تک پہنچنے کے لیے مزید بات چیت کی جائے گی۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق اس پر ایران کی جانب سے آنے والا ردعمل 10 نکات پر مشتمل تھا جس میں خطے میں جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز سے محفوظ طور پر گزرنے کا طریقہ کار، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیر نو سے متعلق نکات شامل تھے۔
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’پورے ملک پر ایک ہی رات میں قبضہ کیا جا سکتا ہے اور وہ رات کل کی ہو سکتی ہے۔‘
انہوں نے یہ ارادہ بھی ظاہر کیا کہ اگر ایران نے مقررہ وقت سے پہلے رضامندی کا اظہار نہیں کیا تو وہ ایران کے پاور پلانٹس اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیں گے۔
ان کے مطابق ’معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بدھ کی رات کو ایران کا ہر پاور پلانٹ اور پل بمباری کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہیں گے۔‘
منگل کی صبح اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے تہران اور دیگر علاقوں میں حکومت کے بنیادی انفراسٹرکچر پر حملوں کی لہر مکمل کر لی ہے جبکہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کا بھی راستے میں روکا گیا۔
اسی طرح سعودی عرب جانب سے بتایا گیا کہ اس نے مشرقی علاقے کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائلوں کو روکا ہے جس کا ملبہ توانائی کی تنصیبات کے قریب گرا تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ میزائل کس نے داغے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے سعودی عرب پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر کو راستے میں روکا گیا۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے منگل کو بیک وقت پبلک سیفٹی الرٹ بھی جاری کیے۔
صدر ٹرمپ نے ایسے سوالات کو مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی پاور پلانٹس کو ختم کرنے کا ارادہ جنگی جرائم میں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس امکان کے بارے میں ’بالکل بھی فکرمند نہیں ہیں۔‘
ان کے مطابق ’مجھے امید ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا پڑے گا۔‘
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے پیر کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی دھمکی ’براہ راست دہشت گردی پر ابھارنے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کے جنگی جرائم کے ارتکاب کے ارادے کا واضح ثبوت فراہم کرتی ہے۔‘
ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے فنکاروں اور کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ منگل کو ملک بھر میں پاور پلانٹس پر انسانی زنجیریں بنائیں۔ ایران کی اعلیٰ قیادت نے صدر ٹرمپ کو ’غلط فہمی کا شکار‘ قرار دیا۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی مہر کے مطابق منگل کو دارالحکومت میں ایک امریکی و اسرائیلی حملے سے ایک عبادت گاہ کو بھاری نقصان پہنچا۔
دوسری جانب جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کو قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچیں کیونکہ صدر ٹرمپ کی ڈیڈلائن ختم ہو رہی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھولے جانے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا، جو کہ تیل کی تجارت کے حوالے سے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور اس کی بندش سے قیمتیں مزید اوپر جانے کے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔

شیئر: