ایرانی فوج نے صدر ٹرمپ کی ’متکبرانہ بیان بازی‘ مسترد کر دی
امریکی صدر نے پیر کو ایران کا انفراسٹرکچر مٹا دینے کی دھمکی دی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی فوج نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’متکبرانہ بیان بازی‘ اس کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بن رہی۔
امریکی صدر نے پیر کو ایران کا انفراسٹرکچر مٹا دینے کی دھمکی دی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خاتم الانبیا سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے قومی نشریاتی ادارے پر کہا کہ ’غلط فہمی کے شکار امریکی صدر کی بدتمیزی، متکبرانہ بیان بازی اور بے بنیاد دھمکیوں کا امریکی و صہیونی دشمنوں کو کچلنے کی کارروائی کے تسلسل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’اگر ایران نے الٹی میٹم کے مطابق آبنائے ہرمز کو بدھ تک نہ کھولا تو پورے ملک کو ایک رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ رات کل کی ہو سکتی ہے۔‘
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایران کا ہر بجلی گھر جلنے اور اڑنے کے بعد استعمال کے قابل نہیں رہے گا۔‘
انہوں نے ایسی ہی دھمکی پلوں کے لیے بھی دی۔
’میرا مطلب ہے کہ اگر ہم چاہیں تو رات 12 بجے تک مکمل تباہی ہو گی اور یہ سب کچھ چار گھنٹے کے اندر ہو جائے گا۔‘
خیال رہے ایران نے پیر کو عارضی جنگ بندی کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔
ایران کی نیوز ایجنسی ارنا کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے جس میں جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے مستقل امن کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انہوں نے ایک تجویز پیش کی ہے، یہ ایک اہم قدم ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایرانی حکومت سے ناراض ہیں اور اسے اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔