وزیراعظم شہباز شریف کی ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست، ’صدر ٹرمپ آگاہ ہیں‘
وزیراعظم شہباز شریف کی ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست، ’صدر ٹرمپ آگاہ ہیں‘
منگل 7 اپریل 2026 22:29
شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے یہ درخواست منگل اور بدھ کی درمیانی شب ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کی (فائل فوٹو: پی ایم آفس)
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی ہے کہ وہ ’ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں دو ہفتے کی توسیع کردیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے یہ درخواست منگل اور بدھ کی درمیانی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کی۔
اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ’مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے پرامن تصفیے کے لیے سفارتی کوششیں تسلسل کے ساتھ، مضبوطی اور بھرپور انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں اور قوی امکان ہے کہ یہ مستقبل قریب میں ٹھوس نتائج تک پہنچیں گی۔‘
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’سفارت کاری کو اپنا عمل مکمل کرنے کا موقع دینے کے لیے میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ مہلت میں دو ہفتوں کی توسیع کر یں۔‘
’پاکستان خلوصِ نیت کے ساتھ ایرانی برادران سے درخواست کرتا ہے کہ وہ جذبۂ خیرسگالی کے تحت اِسی مُدت یعنی دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہُرمز کو کھول دیں۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم تمام فریقین جنگ سے یہ بھی پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہر محاذ پر دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کریں تاکہ سفارتی عمل جنگ کے حتمی اور فیصلہ کُن خاتمے تک پہنچ سکے، اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کی پوسٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ درخواست سے آگاہ ہیں اور اس پر رِدعمل جلد دیا جائے گا۔‘
اس سے پہلے دو پاکستانی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو منگل کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔ جبکہ ایران پر امریکی حملوں میں شدت آگئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’قیامت ٹوٹ پڑنے‘ کی ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔
ذرائع میں سے ایک، جو ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار ہیں، نے کہا کہ سعودی عرب پر ایرانی حملوں کے خطرے نے مذاکرات کو پٹری سے اُتارنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی پوسٹ کا عکس (فوٹو: شہباز شریف ایکس اکاؤنٹ)
ذرائع کے مطابق ’اگر تنازع بڑھتا ہے تو پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر زور دیا ہے کہ وہ منگل تک دی گئی مہلت کے اندر معاہدہ کر لے، ورنہ اگر تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو ’ایک پوری تہذیب آج رات مِٹ جائے گی۔‘
صدر ٹرمپ نے منگل کو ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی اور پھر کبھی اُبھر نہیں ہو سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ ایسا ہو گا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمیں آج رات ہی معلوم ہو جائے گا۔ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے نہایت اہم ترین لمحات میں سے ایک ہو گا۔‘
دوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کی کوششیں ایک ’انتہائی نازک اور فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’نیک نیتی اور سفارتی کوششیں جنگ کو روکنے کے لیے ایک حساس اور اہم مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔‘ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔