امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں: پاکستانی ذرائع
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں: پاکستانی ذرائع
منگل 7 اپریل 2026 20:31
ایک سینیئر ایرانی سورس نے بتایا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
دو پاکستانی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو منگل کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔ جبکہ ایران پر امریکی حملوں میں شدت آ گئی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’قیامت ٹوٹ پڑنے‘ کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔
ذرائع میں سے ایک، جو ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار ہیں، نے کہا کہ سعودی عرب پر ایرانی حملوں کے خطرے نے مذاکرات کو پٹری سے اتارنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر تنازع بڑھتا ہے تو پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔
منگل کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ بھی ہوا۔
دوسرے سورس نے کہا کہ ایران کی ’صورت حال نازک‘ ہے اور آئندہ تین سے چار گھنٹے مذاکرات کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہا ہے اور دونوں جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم کسی سمجھوتے کے آثار نظر نہیں آئے۔
پاکستانی سکیورٹی سورس نے کہا کہ ’ہم ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں لچک دکھائی ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ کسی بھی بات چیت کے لیے سخت شرائط بھی رکھ رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران کو بغیر پیشگی شرائط کے مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادہ کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر تنازع بڑھتا ہے تو پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ (فائل فوٹو: ایس پی آر)
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو کہا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
منگل کو ایک سینیئر ایرانی سورس نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
سورس کے مطابق مستقل امن کے لیے مذاکرات اسی وقت شروع ہو سکتے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل اپنے حملے بند کریں، دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت دیں، اور نقصانات کا ازالہ کریں۔