اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو ’ایک پوری تہذیب آج رات مٹ جائے گی‘: صدر ٹرمپ
ایران اور اسرائیل کے درمیان منگل کو حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر زور دیا ہے کہ وہ منگل تک دی گئی مہلت کے اندر معاہدہ کر لے، ورنہ اگر تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو ’ایک پوری تہذیب آج رات مٹ جائے گی۔‘
عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کو ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی اور پھر کبھی اُبھر نہیں ہو سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ ایسا ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں آج رات ہی معلوم ہو جائے گا۔ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے نہایت اہم ترین لمحات میں سے ایک ہو گا۔‘
دوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کی کوششیں ایک ’انتہائی نازک اور فیصلہ کن مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’نیک نیتی اور سفارتی کوششیں جنگ کو روکنے کے لیے ایک حساس اور اہم مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔‘ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایرانی سیفر کا بیان اس مہلت سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہُرمز کو کھولنے کے لیے دی تھی، بصورتِ دیگر اہم تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد ازاں منگل کو ایک سینیئر ایرانی سورس نے رؤئٹرز کو بتایا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ مذاکرات صرف مستقل امن معاہدے کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔
کویت میں ایران کے سفیر محمد توتونچی نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ ممکنہ ’سانحے‘ کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں، کیونکہ امریکی صدر کی دی گئی مہلت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ خطے کے ممالک اپنی تمام سفارتی اور سیاسی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اس سانحے کو روکنے کی کوشش کریں گے۔‘

دریں اثنا ایران اور اسرائیل کے درمیان منگل کو حملوں کا تبادلہ جاری رہا، جبکہ تہران نے واضح طور پر آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی معاہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ صورتحال اس مہلت سے عین قبل سامنے آئی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی شرائط ماننے یا سخت کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے مقرر کی تھی۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اس سے قبل پاکستان کی ثالثی میں پیش کی گئی امریکی تجویز بھی مسترد کر دی تھی، جس میں فوری جنگ بندی، آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور 15 سے 20 دنوں کے اندر وسیع تر امن مذاکرات شامل تھے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے جواب میں 10 نکات شامل تھے، جن میں خطے میں تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہُرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے طریقہ کار، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیرِ نو شامل ہیں۔
گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’پورے ملک (ایران) کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات کل بھی ہو سکتی ہے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے مہلت ختم ہونے سے پہلے معاہدہ نہ کیا تو ایرانی بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو بدھ کی صبح (0400 جی ایم ٹی) تک ایران کا ’ہر پل تباہ کر دیا جائے گا‘ اور ’ہر بجلی گھر جل کر خاک ہو جائے گا، دھماکوں سے تباہ ہو گا اور دوبارہ کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا۔‘
